Thursday, October 01, 2026 | 17 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • کیرالہ یونیورسٹی ہاسٹل کے باہر یوتھ کانگریس اور ایس ایف آئی میں جھڑپ

کیرالہ یونیورسٹی ہاسٹل کے باہر یوتھ کانگریس اور ایس ایف آئی میں جھڑپ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: 01 Oct 2026

کیرالہ یونیورسٹی ہاسٹل کے باہر یوتھ کانگریس اور ایس ایف آئی میں جھڑپ
کیرالہ کے دارالحکومت ترواننت پورم میں یونیورسٹی کے مینز ہاسٹل کے باہر یوتھ کانگریس، کے ایس یو اور ایس ایف آئی کے کارکنوں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی۔ یہ واقعہ 30 ستمبر کی شام یوتھ کانگریس کے ایک احتجاجی مارچ کے دوران پیش آیا۔ اس دوران یوتھ کانگریس اور ایس ایف آئی کے کارکنوں کے درمیان پتھراؤ ہوا اور دونوں جانب سے جلتی ہوئی مشعلیں بھی پھینکی گئیں۔ پولیس نے صورتحال کو قابو کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ بعد میں پولیس ہاسٹل کے اندر بھی داخل ہوئی، جہاں کئی طلبہ کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
 
یہ مارچ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے نکالا گیا تھا۔ مارچ یونیورسٹی ہاسٹل کے قریب پہنچا تو وہاں موجود طلبہ اور مارچ میں شامل افراد کے درمیان تنازع شروع ہوگیا، جو بعد میں جھڑپ میں تبدیل ہوگیا۔
 
یوتھ کانگریس کے کارکنوں کا الزام ہے کہ ہاسٹل کے اندر سے ان کی طرف پتھر اور بیئر کی بوتلیں پھینکی گئیں۔  اس کے بعد صورتحال خراب ہوئی اور دونوں گروپوں کے درمیان پتھراؤ شروع ہوگیا۔ دوسری طرف ہاسٹل میں موجود ایس ایف آئی سے وابستہ طلبہ کا کہنا ہے کہ یوتھ کانگریس کے کارکنوں نے پہلے ہاسٹل کی طرف پتھراور جلتی ہوئی مشعلیں پھینکیں۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے پر حملہ شروع کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
 
جھڑپ کے دوران ہاسٹل کے احاطے میں بھی جلتی ہوئی مشعلیں پہنچیں۔ ایک مشعل وہاں کھڑی گاڑی اور ایک درخت پر جا گری۔ صورتحال مزید خراب ہونے کے بعد پولیس کی بڑی تعداد موقع پر پہنچی۔ پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی اور بعد میں ہاسٹل کے اندر جا کر لاٹھی چارج کیا۔
 
پولیس کے مطابق، مارچ کے ہاسٹل کے قریب پہنچنے کے وقت بجلی چلی گئی تھی اور وہاں موجود طلبہ نعرے لگا رہے تھے۔ اسی دوران دونوں طرف سے بحث شروع ہوئی اور معاملہ پتھراؤ اور بوتلیں پھینکنے تک پہنچ گیا۔ پولیس نے صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے کاروائی کی۔ ایک ایس ایف آئی کارکن اور دو پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ جھڑپ کے دوران دو پولیس اہلکاروں کو ہاتھ اور ٹانگوں پر چوٹیں آئیں اور انہیں جنرل اسپتال میں طبی مدد دی گئی۔
 
ایس ایف آئی نے پولیس کی کاروائی پر اعتراض کیا۔ تنظیم کا الزام ہے کہ پولیس نے ہاسٹل کے اندر موجود طلبہ پر ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا، جس سے کچھ طلبہ زخمی ہوئے۔ ایس ایف آئی نے اس واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اگلے روز کلاسز کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کیا۔
 
واقعے کے بعد کیرالہ پولیس کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پی وجیان موقع پر پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔
 
سی پی آئی (ایم) کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر پنارائی وجیان سمیت کئی بائیں بازو کے رہنما بھی ہاسٹل کے باہر پہنچے۔ انہوں نے پولیس کی کاروائی پر سوال اٹھائے اور طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال پر اعتراض کیا۔ وی سیوان کٹی اور پی کے سریمتی سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی پولیس کاروائی کے خلاف احتجاج کیا۔ دوسری طرف کانگریس اور یوتھ کانگریس سے وابستہ رہنماؤں نے ایس ایف آئی کارکنوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔
 
جھڑپ کے دوران قریبی علاقے میں املاک کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ کچھ فلیکس بورڈز توڑے گئے اور بعض گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ واقعے کے بعد یونیورسٹی کالج اور ہاسٹل کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔
 
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب کیرالہ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف یوتھ کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج جاری ہیں۔ اس جھڑپ کے بعد سیاسی جماعتوں کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ بھی تیز ہوگیا ہے۔