کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے درمیان آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ وائی ایس جگن موہن ریڈی نے بھی الیکشن کمیشن کے فیصلوں پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جگن موہن ریڈی کی جماعت وائی ایس آر کانگریس پارٹی (YSRCP) نے اس معاملے میں CJP کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس پیش رفت کو اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ جگن موہن ریڈی اس سے پہلے پارلیمنٹ میں این ڈی اے حکومت کی حمایت کر چکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، وائی ایس جگن موہن ریڈی نے الیکشن کمشنروں کی تقرری کے موجودہ طریقہ کار پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اب احساس ہو رہا ہے کہ اس عمل سے اتفاق نہیں کرنا چاہیے تھا۔ موجودہ طریقہ کار کے تحت الیکشن کمشنروں کی تقرری کے لیے تین رکنی سلیکشن کمیٹی میں وزیر اعظم، وزیر اعظم کی جانب سے نامزد کردہ ایک مرکزی وزیر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر شامل ہوتے ہیں۔ جگن موہن ریڈی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس قانون میں ترمیم کی جائے اور کمیٹی میں چیف جسٹس آف انڈیا کو بھی شامل کیا جائے۔ ان کے مطابق، اس اقدام سے الیکشن کمشنروں کی تقرری کے عمل میں مزید اعتماد پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ایک رہنما نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت مختلف مسائل پر اپنی پالیسی کے مطابق این ڈی اے کی حمایت کرتی ہے، لیکن اس معاملے میں عوام کو حکومت کی جانب سے مزید یقین دہانیوں کی ضرورت ہے۔ رہنما نے وضاحت کی کہ آندھرا پردیش میں اپوزیشن جماعت ہونے کے ناطے YSRCP ان لوگوں کے ساتھ کھڑی ہونا اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے جن کے مطابق بعض ووٹ غیر قانونی طور پر ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے ہیں۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی رہنما نے آندھرا پردیش کی ٹی ڈی پی (TDP) کی قیادت والی حکومت پر بھی الزام لگایا کہ وہ الیکشن کمیشن کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، الیکشن کمیشن ریاستی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
جگن موہن ریڈی کی جانب سے CJP کی حمایت کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی ہو رہی ہیں کہ اس پیش رفت کے پیچھے بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ ممکنہ مفاہمت ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس سلسلے میں اب تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ فی الحال YSRCP کی جانب سے الیکشن کمیشن کے تقرری کے طریقہ کار پر اعتراض اور ووٹر لسٹ سے مبینہ طور پر ووٹ حذف کیے جانے کے معاملے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ اس موقف کا این ڈی اے کے ساتھ جماعت کے تعلقات پر کیا اثر پڑتا ہے۔







