Friday, May 15, 2026 | 27 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • کرناٹک کی سیاست میں پھر ہلچل، شیوکمار کو وزیر اعلیٰ بنانے کا مطالبہ، سالگرہ پر لگے خصوصی پوسٹر

کرناٹک کی سیاست میں پھر ہلچل، شیوکمار کو وزیر اعلیٰ بنانے کا مطالبہ، سالگرہ پر لگے خصوصی پوسٹر

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: May 15, 2026 IST

کرناٹک کی سیاست میں پھر ہلچل، شیوکمار کو وزیر اعلیٰ بنانے کا مطالبہ، سالگرہ پر لگے خصوصی پوسٹر
کرناٹک کی سیاست میں ایک بار پھر قیادت کی تبدیلی سے متعلق چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ نائب وزیر اعلیٰ اور ریاستی کانگریس صدر ڈی کے شیوکمار کو “اگلا وزیر اعلیٰ” قرار دینے والے پوسٹرز اور بینرز ریاست کے مختلف علاقوں، میں دیکھے گئے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
 
جمعہ 15 مئی کو ڈی کے شیوکمار نے اپنی 64ویں سالگرہ منائی۔ اس موقع پر ان کے حامیوں کی جانب سے کئی مقامات پر مبارکبادی پوسٹرز لگائے گئے جن میں انہیں “مستقبل کا وزیر اعلیٰ” قرار دیا گیا۔ شمالی کرناٹک کے شہر بیلگاوی کے مشہور چنمما سرکل پر بھی ایسے بڑے ہورڈنگز نصب کیے گئے۔
 
اطلاعات کے مطابق، یہ پوسٹرز کانگریس رہنما اور ریاستی وزیر برائے خواتین و اطفال فلاح لکشمی ہیبالکر کے بیٹے مرونل ہیبالکر کی جانب سے لگوائے گئے تھے۔ لکشمی ہیبالکر ماضی میں بھی اپنی سیاسی کامیابیوں کا سہرا ڈی کے شیوکمار کو دے چکی ہیں۔ ان کے بھائی چنارراج ہٹی ہولی بھی کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل ہیں۔
 
دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈی کے شیوکمار نے اپنی سالگرہ سے قبل کارکنوں اور حامیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ان کی سالگرہ کے موقع پر پوسٹرز اور بینرز نہ لگائیں۔ اس کے باوجود “اگلے وزیر اعلیٰ” کے نعرے والے پوسٹرز سامنے آنے سے سیاسی قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔
 
اپنی سالگرہ کی تقریبات پر ردعمل دیتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ رات بھر ان کے حامی ان سے ملاقات کے لیے آتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب لوگوں کی محبت، اعتماد اور دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے پہلے ہی بینرز نہ لگانے کی ہدایت دی تھی اور حکام تقریبا پچاس فیصد پوسٹرز ہٹا چکے ہیں۔
 
ادھر جمعہ کی صبح  پجاریوں نے بنگلورو میں واقع ان کی رہائش گاہ پر پہنچ کر مذہبی رسومات ادا کیں اور ویدک منتروں کے ساتھ انہیں سالگرہ کی مبارکباد دی۔ ریاستی وزیر شرن پرکاش پاٹل نے بھی ان کی رہائش گاہ پر جا کر مبارکباد پیش کی۔
 
ڈی کے شیوکمار کے نام پر جاری یہ سیاسی مہم ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کرناٹک کانگریس کے اندر قیادت کو لے کر وقتاً فوقتاً قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں، اور اب ان پوسٹرز نے ایک بار پھر ریاستی سیاست کا ماحول گرم کر دیا ہے۔