مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے 15 مئی کو دھار ضلع میں واقع تاریخی اور متنازع بھوج شالہ کمال مولا مسجد کمپلیکس کے متعلق ایک انتہائی اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے تاریخی شواہد اور آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کی رپورٹ کی بنیاد پر اس مقام کو پرمار خاندان کے راجہ بھوج کے دور کا ہندو مندر قرار دے دیا ہے۔
اس فیصلے کے بعد جہاں ہندو فریق میں خوشی کی لہر ہے، وہیں مسلم فریق نے اس پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
عدالت کے فیصلے کے اہم نکات:
جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی کی ڈویژن بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ:عدالت نے تسلیم کیا کہ تاریخی لٹریچر سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جگہ راجہ بھوج کے دور میں سنسکرت تعلیم کا مرکز (بھوج شالہ) اور واگ دیوی (سرسوتی) کا مندر تھی۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ آثارِ قدیمہ ایک سائنس ہے اور عدالت نے ASI کے حقائق اور نتائج پر مکمل بھروسہ کیا ہے۔بنچ نے ریمارکس دیے کہ اس جگہ پر ہندوؤں کی پوجا ارچنا کا تسلسل کبھی ختم نہیں ہوا، اس لیے ہندو فریق کو پوجا پاٹھ کا حق دیا جاتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ مسلم فریق مسجد کی زمین کے لیے علیحدہ سے درخواست دے سکتا ہے۔
سیکورٹی کے سخت انتظامات:
فیصلے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے پورے دھار ضلع میں سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر بھی کڑی نظر رکھی ہوئی ہے تاکہ کسی بھی قسم کی افواہ بازی یا فرقہ وارانہ کشیدگی کو روکا جا سکے۔
یاد رہے کہ 2003 سے آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کے ایک حکم کے تحت یہاں ایک خصوصی انتظام لاگو ہے:ہر منگل کو طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک پوجا کرتے ہیں۔مسلم ہر جمعہ کو دوپہر 1 بجے سے 3 بجے تک نماز ادا کرتے ہیں۔آج بھی فیصلے کے دن، سخت سیکورٹی کے درمیان مسلم کمیونٹی نے روایت کے مطابق یہاں نماز ادا کی۔