Tuesday, September 01, 2026 | 17 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • پاکستان کے نارووال میں 100 سال پرانے ہندو مندر کے انہدام پر تنازع

پاکستان کے نارووال میں 100 سال پرانے ہندو مندر کے انہدام پر تنازع

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 01, 2026 IST

پاکستان کے نارووال میں 100 سال پرانے ہندو مندر کے انہدام پر تنازع
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع نارووال میں100 سے 125 سال پرانے ایک ہندو مندر منہدم  ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ مندر21 اگست 2026 کو منہدم ہوا تھا، جبکہ یہ معاملہ بعد میں سامنے آیا۔ مندر تقریباً 1,000 مربع میٹر رقبے پر قائم تھا۔ یہ مندر 100 سے 125 سال قدیم بتائی گئی ہے۔ مقامی لوگ اور اقلیتی برادری کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ مندر کی زمین کو ساتھ والے مدرسے میں شامل کرنے کے لیے اسے گرایا گیا۔ یہ مندر لاہور سے تقریباً 130 کلومیٹر دور گاؤں سراج میں واقع تھا۔ مقامی افراد کے مطابق، کالعدم مذہبی تنظیم تحریک لبیک پاکستان یعنی ٹی ایل پی سے وابستہ کچھ افراد نے مبینہ طور پر مندر کو منہدم کیا تاکہ اس کی زمین مدرسے کے لیے استعمال کی جا سکے۔ دوسری طرف ایواکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کے ایک سینئر عہدیدار رانا افتخار نے مندر کے منہدم ہونے کی وجہ شدید بارش اور خراب موسم کو قرار دیا۔ ان کے مطابق سرکاری ریکارڈ میں اس مقام پر کسی مندر کا نام درج نہیں ہے۔
 

مندر کی زمین مدرسے کو لیز پر دی گئی تھی

مندر کے قریب موجود زمین کو ایواکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ نے پہلے ایک مدرسے کے لیے لیز پر دیا تھا۔ کئی سال تک کرایہ ادا نہ کیے جانے کے بعد یہ لیز منسوخ کر دی گئی تھی۔ مندر کے انہدام کے بعد اقلیتی برادری کے رہنماؤں نے الزام لگایا کہ متعلقہ حکام مندر کی حفاظت کرنے اور زمین پر مبینہ قبضہ ختم کرانے میں ناکام رہے۔
 

مندر کا سامان بھی ہٹانے کا الزام

پاکستان مسیحا ملت پارٹی کے چیئرمین اسلم پرویز  نے کہا کہ مندر کے انہدام کے بعد اس کے دھاتی سامان، دیگر مواد اور اینٹیں بھی مبینہ طور پر وہاں سے ہٹا دی گئیں۔ انہوں نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ مندر گرانے میں ملوث افراد اور اگر کسی سرکاری اہلکار کی غفلت ثابت ہو تو اس کے خلاف بھی کاروائی کی جائے۔ انہوں نے مندر کی دوبارہ تعمیر کا مطالبہ بھی کیا۔ اس معاملے میں دو الگ دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ اقلیتی نمائندوں اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مندر کو جان بوجھ کر گرایا گیا تاکہ اس کی جگہ مدرسے میں شامل کی جا سکے، جبکہ ای ٹی پی بی کا مؤقف ہے کہ مندر شدید بارش کے باعث خود منہدم ہوا۔
 

ہندو برادری میں تشویش

کمیونٹی رہنما رتن لال نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور ایواکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ مندر کی حفاظت نہیں کر سکے۔ ان کے مطابق صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ تاریخی عمارت کو ہی منہدم کر دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مقامی ہندو برادری کے لوگ اب اس مقام پر جانے سے خوف محسوس کرتے ہیں کیونکہ وہاں موجود مدرسہ اب بھی کام کر رہا ہے۔
 

حکام نے بارش کو انہدام کی وجہ بتایا

دوسری طرف ایواکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کے ایک سینئر عہدیدار رانا افتخار نے مندر کے منہدم ہونے کی وجہ شدید بارش اور خراب موسم کو قرار دیا۔
ان کے مطابق سرکاری ریکارڈ میں اس مقام پر کسی مندر کا نام درج نہیں ہے، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ عمارت بہت پرانی تھی اور اس کی عمر تقریباً 100 سے 125 سال بتائی جاتی ہے۔ پاکستان مسیحا ملت پارٹی کے سربراہ اسلم پرویز  کے مطابق ایواکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ نے 29 جنوری 2026 کو مدرسے کی لیز منسوخ کرتے ہوئے مبینہ غیر قانونی قابضین کو ہٹانے اور جائیداد سیل کرنے کی ہدایت دی تھی ، لیکن ان کے دعوے کے مطابق اس ہدایت  پر عمل نہیں کیا گیا۔افتخار نے یہ بھی کہا کہ 11 اپریل 2026 کی ایک رپورٹ میں مقامی پولیس کو مندر کے حوالے سے سکیورٹی خدشات اور ممکنہ نقصان کے خطرے سے آگاہ ہونے کا ذکر تھا۔
 

نارووال میں مندروں کی تعداد کم ہوتی گئی

مقامی معلومات کے مطابق پاکستان بننے کے وقت ضلع نارووال میں ہندوؤں کے تقریباً 45 مندر موجود تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے زیادہ تر خستہ حال ہو گئے اور کئی مذہبی مقامات غیر فعال یا تباہ ہو گئے۔
 

پاکستان میں مندروں کی بحالی کی کوششیں

گزشتہ سال پنجاب حکومت نے ایک ہندو مندر کی دوبارہ تعمیر اور بحالی کے لیے ایک کروڑ پاکستانی روپے کا بجٹ بھی مختص کیا تھا۔ یہ مندر کئی سالوں سے غیر فعال تھا اور اس کی بحالی کا عمل ایک طویل عرصے بعد دوبارہ شروع کیا گیا۔ نارووال کے مندر کا معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں تاریخی ہندو مذہبی مقامات کی حفاظت اور اقلیتوں کے مذہبی مقامات کے تحفظ پر ایک بار پھر سوالات اٹھ رہے ہیں۔