Tuesday, September 01, 2026 | 17 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • زوماٹو کا بڑا فیصلہ، حیدرآباد میں 250 ملازمین فارغ

زوماٹو کا بڑا فیصلہ، حیدرآباد میں 250 ملازمین فارغ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 01, 2026 IST

زوماٹو کا بڑا فیصلہ، حیدرآباد میں 250 ملازمین فارغ
فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارم زوماٹو اس وقت اپنے ایک اہم فیصلے کی وجہ سے سرخیوں میں ہے۔ کمپنی نے حیدرآباد میں اپنے ’کسٹمر ڈیلائٹ‘ یعنی کسٹمر سپورٹ آپریشنز بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 250 ملازمین متاثر ہوئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، زوماٹو نے اپنے کسٹمر سپورٹ سے متعلق آپریشنز کو مرکزی سطح پر منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب ان خدمات کا انتظام صرف گروگرام سے کیا جائے گا، جس کے بعد حیدرآباد میں اس شعبے سے وابستہ ملازمین کی خدمات ختم کر دی گئی ہیں۔
 
کمپنی کے اس فیصلے سے خاص طور پر حیدرآباد میں کام کرنے والے کسٹمر سپورٹ کے ملازمین متاثر ہوئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ کمپنی نے اپنے آپریشنل ڈھانچے میں تبدیلی اور مختلف خدمات کو ایک ہی مقام سے چلانے کی حکمت عملی کے تحت یہ قدم اٹھایا ہے۔ زوماٹو کے ’کسٹمر ڈیلائٹ‘ شعبے کا بنیادی کام صارفین کی شکایات، مسائل اور دیگر سوالات کو حل کرنا تھا۔ اب یہ تمام ذمہ داریاں گروگرام میں قائم مرکزی آپریشنز سے سنبھالی جائیں گی۔
 
فارغ کیے جانے والے تمام متاثرہ ملازمین کو کمپنی کی جانب سے چار ماہ کی تنخواہ کے برابر سیورینس پیکج دیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔سیورینس پیکج عام طور پر ملازمت ختم ہونے کی صورت میں ملازمین کو مالی سہارا فراہم کرنے کے لیے دیا جاتا ہے، تاکہ وہ نئی ملازمت تلاش کرنے کے دوران فوری مالی مشکلات سے بچ سکیں۔تاہم، ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں ملازمین کے متاثر ہونے کے بعد کمپنی کے اس فیصلے نے ملازمین کے درمیان مایوسی پیدا کر دی ہے۔
 
زوماٹو کے اس فیصلے کے بعد حیدرآباد میں کسٹمر سپورٹ سے متعلق سرگرمیاں بند ہو جائیں گی، جبکہ اب کمپنی اپنے کسٹمر ڈیلائٹ آپریشنز کو صرف گروگرام سے چلائے گی۔کمپنیوں کی جانب سے اخراجات کم کرنے، آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنانے اور مختلف شعبوں کو ایک مرکزی مقام سے چلانے کے فیصلے اکثر کارپوریٹ دنیا میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ تاہم، ایسے فیصلوں کا براہِ راست اثر ملازمین اور ان کے خاندانوں پر پڑتا ہے۔اب زوماٹو کے اس فیصلے کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ متاثرہ 250 ملازمین کے لیے آگے روزگار کے نئے مواقع کتنی جلدی پیدا ہو پائیں گے۔