Tuesday, September 01, 2026 | 17 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سی جے پی کا بڑا اعلان، 5 ستمبر کا مارچ منسوخ

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سی جے پی کا بڑا اعلان، 5 ستمبر کا مارچ منسوخ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 01, 2026 IST

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سی جے پی کا بڑا اعلان، 5 ستمبر کا مارچ منسوخ
کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے 5 ستمبر کو انڈیا گیٹ سے دہلی پولیس ہیڈکوارٹر تک نکالے جانے والے مجوزہ مارچ کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تنظیم نے یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور سپریم کورٹ کے حالیہ ہدایت کے بعد کیا۔ CJP کے شریک کنوینر سوراو داس نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مثبت یقین دہانیوں، عدلیہ کے احترام اور سپریم کورٹ کی ہدایت کو دیکھتے ہوئے تنظیم نے 5 ستمبر کا مارچ واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے CJP کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں فریق ایک دوسرے پر اعتماد کریں تو تمام مسائل کو مرحلہ وار حل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق کھلے ذہن کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مشکل سے مشکل مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
 

سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد مارچ منسوخ

5 ستمبر کے مجوزہ مارچ کے بارے میں سپریم کورٹ نے 31 اگست کو فوری طور پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ فی الحال ایسا کوئی جواز نہیں کہ یہ سمجھا جائے کہ احتجاج کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے گا۔ عدالت نے مرکز اور دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے کی اگلی سماعت 10 ستمبر کو مقرر کی۔
 

مارچ کا اعلان کیوں کیا گیا تھا؟

CJP نے اس سے قبل 5 ستمبر کو مارچ نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ تنظیم کا الزام تھا کہ مرکزی حکومت نے 25 جولائی کو کیے گئے وعدوں کو مکمل طور پر پورا نہیں کیا۔ CJP نے جولائی میں 36 روزہ احتجاج ختم کیا تھا۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ اسے اس وقت حکومت کی جانب سے چار مطالبات پر کاروائی کی یقین دہانی ملی تھی، لیکن اگست کے آخر تک اس کے مطابق تین مطالبات زیرِ التوا تھے، جس کے بعد 5 ستمبر کے مارچ کا اعلان کیا گیا۔  CJP کا احتجاج ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری تھا اور اسی دوران حکومت کے ساتھ بات چیت کے بعد اسے ختم کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔  تنظیم نے بعد میں حکومت پر وعدے پورے نہ کرنے کا الزام لگایا اور مارچ کا اعلان کر دیا تھا۔ اس کے بعد 1 ستمبر کو CJP نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ وہ 5 ستمبر کا مارچ منسوخ کر رہی ہے۔ اس فیصلے کی بنیادی وجہ مرکز کی جانب سے مظاہرین کے خلاف درج FIR واپس لینے اور دیگر مطالبات پر کاروائی کی یقین دہانی بتائی گئی ہے۔
 

متوفی طلباء کے اہل خانہ بھی مارچ میں شامل ہونے والے تھے

CJP کی نیشنل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔ مجوزہ مارچ میں احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے طلباء کے اہل خانہ کو بھی قیادت کرنی تھی۔ مارچ تقریباً 2.5 کلومیٹر کا ہونا تھا اور اس میں ہلاک ہونے والے NEET امیدواروں کے اہل خانہ، مبینہ پولیس زیادتی کے متاثرین، طلباء اور نوجوان تنظیموں کے شامل ہونے کی توقع تھی۔
 

دہلی پولیس کو مارچ کی درخواست نہیں ملی تھی

دہلی پولیس نے کہا تھا کہ اسے 5 ستمبر کے مارچ کے حوالے سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔ پولیس کے ایک ذریعے کے مطابق اگر درخواست موصول ہوتی تو اس کا جائزہ لیا جاتا۔ بعد میں CJP نے حکومت کی یقین دہانیوں اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مارچ منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اب CJP کی توجہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل درآمد اور حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے پر ہے۔
 
CJP کے مطالبات صرف FIR واپس لینے تک محدود نہیں تھے۔ تنظیم کے مطابق NEET امیدواروں کی خودکشی سے ہلاک ہونے والے طلباء کے اہل خانہ کو معاوضہ، طلباء کے خلاف کاروائی نہ کرنے کی یقین دہانی اور Rapid Action Force اور دہلی پولیس کی جانب سے مبینہ زیادتی پر معافی بھی مطالبات میں شامل تھے۔