Wednesday, August 05, 2026 | 19 صفر 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • غزہ: صابرہ محلے کے ملبے سے 112 لاشیں برآمد، 136 گھنٹے تک ریسکیو آپریشن جاری رہا

غزہ: صابرہ محلے کے ملبے سے 112 لاشیں برآمد، 136 گھنٹے تک ریسکیو آپریشن جاری رہا

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 05, 2026 IST

غزہ: صابرہ محلے کے ملبے سے 112 لاشیں برآمد، 136 گھنٹے تک ریسکیو آپریشن جاری رہا
غزہ شہر کے صابرہ محلے میں کئی روز تک جاری رہنے والی امدادی کارروائیوں کے بعد ملبے تلے دبے 112 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ آپریشن حالیہ مہینوں کی سب سے طویل اور مشکل ریسکیو کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس کے دوران امدادی کارکنوں نے انتہائی محدود وسائل کے باوجود مسلسل کام جاری رکھا۔
 
امدادی کارکنوں  نے 136 گھنٹے تک مسلسل ملبہ ہٹانے اور متاثرین کی تلاش کا کام کیا۔ حکام کے مطابق بھاری مشینری کی شدید کمی کے باعث ریسکیو اہلکاروں کو بیشتر مقامات پر ہاتھوں اور معمولی آلات کی مدد سے ملبہ صاف کرنا پڑا، جس کی وجہ سے کارروائی انتہائی سست اور دشوار ثابت ہوئی۔ امدادی کارکنوں نے کئی مقامات پر دن رات مسلسل کام کیا تاکہ ملبے تلے دبے افراد تک جلد از جلد پہنچا جا سکے۔
 
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برآمد ہونے والی 112 لاشوں میں 40 بچے، 38 خواتین اور 7 معذور افراد شامل ہیں۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ تنازع کے دوران عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ بچوں، خواتین اور بزرگوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں نے انسانی بحران کی سنگینی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
 
شہری دفاع کے عہدیداروں نے بتایا کہ کئی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھیں، جس کے باعث ملبے کے نیچے دبے افراد تک پہنچنے میں غیر معمولی مشکلات پیش آئیں۔ محدود وسائل، ایندھن کی کمی اور مسلسل خطرات کے باوجود امدادی ٹیموں نے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔ ان کے مطابق یہ حالیہ دنوں کی سب سے پیچیدہ اور مشکل امدادی کارروائیوں میں سے ایک تھی۔
 
ادھر انسانی امدادی تنظیموں نے غزہ میں مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ رہائشی علاقوں، متاثرہ ہسپتالوں اور بنیادی سہولیات کی کمی نے لاکھوں شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ کئی خاندان اب بھی اپنے لاپتہ عزیزوں کی تلاش میں ہیں، جبکہ متعدد علاقوں میں امدادی کارروائیاں وسائل کی کمی کے باعث متاثر ہو رہی ہیں۔
 
بین الاقوامی سطح پر بھی غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی ممکن بنائی جائے، اور امدادی ٹیموں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دے سکیں۔
 
157 افراد اب بھی لاپتہ 
 
انتظامیہ کے مطابق صورتحال اب بھی تشویشناک ہے کیونکہ تقریباً 157 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان میں سے بیشتر بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں، تاہم بھاری مشینری، ایندھن اور جدید ریسکیو آلات کی شدید کمی کے باعث تلاش کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ امدادی اداروں نے عالمی برادری سے فوری امداد اور ریسکیو وسائل فراہم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ باقی لاپتہ افراد کی تلاش جلد مکمل کی جا سکے۔
 
یہ سانحہ دراصل 22 نومبر 2023 کو ہونے والے اس اسرائیلی فضائی حملے سے جڑا ہے، جس میں غزہ شہر کے الصابرا علاقے کے رہائشی بلاک کی متعدد عمارتیں زمین بوس ہو گئی تھیں۔ فلسطینی حکام کے مطابق اس حملے میں 308 افراد جان سے گئے تھے۔ اس وقت شدید بمباری، مسلسل سیکیورٹی خدشات اور محدود وسائل کی وجہ سے صرف چند درجن لاشیں ہی ملبے سے نکالی جا سکی تھیں، جبکہ بڑی تعداد میں افراد عمارتوں کے نیچے دبے رہ گئے تھے۔