Wednesday, August 05, 2026 | 19 صفر 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • مودی پوسٹ تنازع کے بعد میٹا کو پارلیمانی کمیٹی کی وارننگ

مودی پوسٹ تنازع کے بعد میٹا کو پارلیمانی کمیٹی کی وارننگ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 05, 2026 IST

مودی پوسٹ تنازع کے بعد میٹا کو پارلیمانی کمیٹی کی وارننگ
بھارت کی پارلیمانی کمیٹی برائے مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے سوشل میڈیا کمپنی میٹا کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ بھارتی قوانین پر عمل نہیں کرتی تو اسے آئی ٹی ایکٹ کے تحت حاصل "سیف ہاربر تحفظ" نہیں دیا جائے گا۔ کمیٹی نے خاص طور پر وزیر اعظم نریندر مودی، خواتین اور بچوں سے متعلق قابل اعتراض مصنوعی ذہانت اے آئی سے تیار کردہ مواد کے معاملے پر میٹا سے وضاحت طلب کی ہے۔

وزیر اعظم کی پوسٹ پر تنازع کے بعد معاملہ گرم ہوا

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک فیس بک پوسٹ کو عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔ اس پوسٹ میں وزیر اعظم نے نوجوانوں سے خطاب کیا تھا اور پیپر لیک کے خلاف حکومت کی کاروائی کا ذکر کیا تھا۔ میٹا نے بعد میں وضاحت دی کہ یہ کارروائی مصنوعی ذہانت اے آئی پر مبنی تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہوئی تھی۔ کمپنی نے اس پر معذرت بھی کی اور پوسٹ کو بحال کر دیا، لیکن وزارت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی "Meity" نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ میٹا کو اپنے خودکار نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

میٹا کے عہدیداروں سے ہوگی ملاقات

حکومت نے میٹا کے اعلیٰ عالمی عہدیداروں کو طلب کیا ہے۔ میٹا کی ٹیم 5 اور 6 اگست کو بھارتی حکام سے ملاقات کرے گی۔ میٹا کے چیف گلوبل افیئرز آفیسر جوئل کپلان بھی ان ملاقاتوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔ حکومت اس دوران کئی اہم معاملات پر وضاحت طلب کرے گی، جن میں: مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد، بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد "CSAM"، مواد کی نگرانی اور ہٹانے کا نظام، الگورتھم میں ممکنہ تعصب شامل ہیں۔

پارلیمانی کمیٹی کا سخت موقف

پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے کہا ہے کہ اگر کوئی ٹیکنالوجی کمپنی بھارتی قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اسے آئی ٹی ایکٹ کے تحت سیف ہاربر تحفظ نہیں ملے گا۔ سیف ہاربر تحفظ کے تحت عام طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صارفین کی جانب سے پوسٹ کیے گئے مواد کے لیے محدود قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ دوبے نے کہا کہ وزیر اعظم کے خلاف اے آئی سے تیار کردہ قابل اعتراض مواد، خواتین اور بچوں سے متعلق غیر قانونی مواد، اور مالی فراڈ سے متعلق شکایات کے معاملے میں حکومت سخت موقف اختیار کر رہی ہے۔

میٹا پر الگورتھم اور مواد کی نگرانی کے سوالات

حکومتی ذرائع کے مطابق میٹا کے ساتھ ہونے والی بات چیت صرف تکنیکی مسائل تک محدود نہیں ہوگی بلکہ قومی سلامتی، امن عامہ اور کمپنی کے الگورتھم کے کام کرنے کے طریقے پر بھی گفتگو ہوگی۔ پارلیمانی کمیٹی پہلے ہی میٹا سے مواد کی نگرانی کے نظام پر سوال کر چکی ہے۔ کمیٹی نے الزام لگایا ہے کہ کچھ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایسے مواد کو فروغ دیتے ہیں جو مسائل پیدا کر سکتا ہے، جبکہ خواتین اور بچوں سے متعلق غیر قانونی مواد کو روکنے میں ناکامی کا سامنا ہے۔

"CSAM" اور اشتہارات پر بھی نگرانی

میٹا کے انسٹاگرام پلیٹ فارم پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد "CSAM" والے مبینہ ادا شدہ اشتہارات کے معاملے پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔حکومت نے گزشتہ ماہ اس معاملے پر کمپنی کو نوٹس جاری کیا تھا۔

میٹا نے تصدیق شدہ اکاؤنٹس کے لیے اضافی نگرانی کا وعدہ کیا

وزیر اعظم کی پوسٹ کے تنازع کے بعد میٹا نے حکومت کو بتایا کہ وزیر اعظم اور دیگر اہم تصدیق شدہ اکاؤنٹس کی پوسٹس پر اضافی نگرانی رکھی جائے گی-کمپنی کے مطابق ایسی پوسٹس پر اعتدال پسندی "Moderation" کے فیصلے سے پہلے سینئر حکام کی جانب سے کئی سطحوں پر جائزہ لیا جائے گا-اب حکومت اور میٹا کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں یہ واضح ہوگا کہ کمپنی بھارتی قوانین اور مواد کی نگرانی سے متعلق خدشات کو کس طرح حل کرتی ہے۔