Wednesday, August 05, 2026 | 19 صفر 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • گجرات: چاندی پورہ وائرس کا خطرہ، 22 بچوں کی موت کے بعد محکمہ صحت الرٹ

گجرات: چاندی پورہ وائرس کا خطرہ، 22 بچوں کی موت کے بعد محکمہ صحت الرٹ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 05, 2026 IST

گجرات: چاندی پورہ وائرس کا خطرہ، 22 بچوں کی موت کے بعد محکمہ صحت الرٹ
گجرات میں چاندی پورہ وائرس (CHPV) کے بڑھتے ہوئے کیسز نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ مون سون کے موسم کے دوران اب تک اس وائرس سے 22 بچوں کی موت ہو چکی ہے، جبکہ متعدد مشتبہ مریضوں کا علاج مختلف سرکاری اسپتالوں میں جاری ہے۔ محکمہ صحت نے متاثرہ علاقوں میں نگرانی بڑھاتے ہوئے احتیاطی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
 
صحت حکام کے مطابق، اب تک سامنے آنے والے تمام متاثرہ مریض 15 سال سے کم عمر بچے ہیں۔ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متاثرہ علاقوں میں سینڈ مکھیوں (Sand Flies) پر قابو پانے کی غرض سے کیڑے مار ادویات کا اسپرے کیا جا رہا ہے، جبکہ طبی ٹیمیں بھی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔
 
چاندی پورہ وائرس کیا ہے؟
 
چاندی پورہ وائرس ایک نایاب مگر خطرناک وائرل انفیکشن ہے، جو زیادہ تر بچوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ وائرس عام طور پر سینڈ مکھیوں کے ذریعے پھیلتا ہے اور بعض مریضوں میں دماغی سوزش (Encephalitis) جیسی سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
 
اہم علامات
 
ماہرین کے مطابق چاندی پورہ وائرس کی نمایاں علامات میں شامل ہیں:
 
تیز بخار
شدید سر درد
قے آنا
دورے پڑنا
بے ہوشی یا شدید کمزوری
اچانک رویے یا ذہنی کیفیت میں تبدیلی
 
والدین کے لیے احتیاطی ہدایات
 
طبی ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ اگر کسی بچے میں تیز بخار، غیر معمولی غنودگی، دورے، یا رویے میں اچانک تبدیلی جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر قریبی اسپتال یا ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بروقت تشخیص اور علاج سے سنگین پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ محکمہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اردگرد صفائی کا خاص خیال رکھیں، بچوں کو کیڑوں کے کاٹنے سے محفوظ رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، اور کسی بھی مشتبہ علامت کی صورت میں تاخیر کیے بغیر طبی امداد حاصل کریں۔