اتر پردیش کے بریلی ضلع میں ایک خالی گھر میں اجتماعی طور پر نماز ادا کرنے کے معاملے پر تنازع کھڑا ہو گیا۔ ہندو سماج کے لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور پولیس سے شکایت کی۔ شکایت کی بنیاد پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 12 افراد کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے انہیں گھر میں اجتماعی نماز پڑھنے کی تحریری اجازت کا کاغذ نہ دکھانے پر چالان کر دیا۔ تاہم مجسٹریٹ کے سامنے پیشی کے بعد تمام 12 افراد کو ضمانت مل گئی۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
یہ واقعہ بریلی کے بشارت گنج تھانہ کے تحت آنے والے محمد گنج گاؤں کا ہے۔ یہاں حنیف نامی شخص کے خالی مکان کو عارضی مدرسہ بنا کر مقامی مسلمانوں نے اجتماعی نماز پڑھنا شروع کر دیا تھا۔ اس پر مقامی ہندو برادری کے لوگوں نے شدید اعتراض کیا اور تھانہ بشارت گنج میں شکایت درج کرائی۔
شکایت ملتے ہی تھانہ انچارج انیس احمد نے پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچ کر کاروائی کی۔ تھانہ انچارج نے وہاں موجود لوگوں سے خالی گھر میں اجتماعی نماز پڑھنے کی تحریری اجازت کا کاغذ مانگا، لیکن کوئی بھی شخص اجازت نامہ نہ دکھا سکا۔ اس کے بعد پولیس نے موقع پر موجود 12 افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ 3 دیگر افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ویڈیو اور تصاویر :
محمد گنج گاؤں میں ایک خالی گھر میں اجتماعی نماز پڑھنے کا ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئے، جس کے بعد یہ معاملہ بحث کا موضوع بن گیا۔
تاہم سلام ٹی وی کے مطابق ،تمام حراست میں لیے گئے 12 افراد کو بعد میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا اور ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ پولیس نے اسے بغیر اجازت کے عوامی جگہ پر اجتماع اور ممکنہ امن و امان کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔یہ واقعہ مذہبی حساسیت اور انتظامی اجازت کے معاملے پر مقامی سطح پر بحث کو جنم دے رہا ہے۔