Friday, September 11, 2026 | 27 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • طلبا کے مطالبات کو لیکر بی آر ایس وی کا تلنگانہ اسمبلی کے قریب احتجاج

طلبا کے مطالبات کو لیکر بی آر ایس وی کا تلنگانہ اسمبلی کے قریب احتجاج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Sep 11, 2026 IST

 طلبا کے مطالبات کو لیکر بی آر ایس وی کا تلنگانہ اسمبلی کے قریب احتجاج
تلنگانہ میں طلبہ تنظیم بھارت راشٹرا ودیا رتھی سمیتی (BRSV) کے کارکنوں نے جمعہ کو اپنے مطالبات کے حق میں اسمبلی کے قریب احتجاج کیا۔ پولیس نے احتجاجیوں کو کو اسمبلی کی عمارت کی طرف بڑھنے سے روک دیا اور کئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔'BRSV' کے رہنما اور طلبہ اسمبلی کے قریب جمع ہوئے تھے۔ انہوں نے پالی ٹیکنک کالجز سے متعلق جی (GO No. 97) واپس لینے اور طلبہ کے دیگر مطالبات پورے کرنے کا مطالبہ کیا۔
 
'BRSV 'رہنما پرشانت گوڑ  نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلبہ کے 12 ہزار کروڑ روپے کے زیرِ التوا وظائف فوری طور پر جاری کیے جائیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت طلبہ کے مسائل کو نظر انداز کر رہی ہے۔ پرشانت گوڑ  نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے جی او نمبر 97 واپس نہیں لیا تو 'BRSV' وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے طلبہ کے مطالبات پر سنجیدگی نہیں دکھائی تو تنظیم احتجاج کو مزید تیز کرے گی اور سخت طریقے سے احتجاج کیا جائے گا۔
 
اس سے پہلے 7 ستمبر کو بھی 'BRS' ارکان اور پولیس کے درمیان کشیدگی ہوئی تھی۔ 'KTR'، ہریش راؤ اور دیگر ارکان کو اسمبلی میں احتجاج کے دوران پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے 7 ستمبر کو پولیس کو ہدایت دی تھی کہ 'BRS' ارکان اسمبلی کو اسمبلی میں داخل ہونے سے نہ روکا جائے۔ عدالت نے ارکان کے اسمبلی اجلاس میں شرکت کے حق سے متعلق پولیس کے مبینہ رویے پر سخت نوٹس لیا تھا۔
 
9 ستمبر 2026 کو 22 'BRS 'ارکان اسمبلی کو تلنگانہ اسمبلی کے باقی مانسون اجلاس کے لیے معطل کیا گیا۔ ان میں 'BRS' کے کار گزار صدر کے ٹی راما راؤ (KTR) اور سابق وزیر ٹی ہریش راؤ بھی شامل تھے۔ کاروائی اسمبلی میں 'BRS' ارکان کے احتجاج اور ہنگامے کے بعد ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق 'BRS' ارکان پولیس کی جانب سے پارٹی کی خواتین ارکان کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے معاملے پر احتجاج کر رہے تھے۔9 ستمبر کو دو 'BRS MLCs'، ٹی مدھوسودھن اور این نوین کمار ریڈی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر اسمبلی اسپیکر گڈم پرساد کمار کے بارے میں مبینہ طور پر توہین آمیز تبصرے کرنے کا کیس درج کیا گیا تھا۔ بعد میں عدالت نے پولیس کی ریمانڈ درخواست مسترد کرکے دونوں کو ضمانت پر رہا کردیا۔
 
'BRS' اور حکومت کے درمیان اسمبلی اجلاس کے دوران کشیدگی مسلسل جاری رہی۔ 9 ستمبر کو وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے 'BRS' رہنماؤں کے بیانات سے متعلق ایک معاملے کی جامع تحقیقات کی ہدایت بھی دی تھی ۔
 
معطلی کے بعد ہریش راؤ نے اس کاروائی کو ’غیر جمہوری‘ قرار دیا اور اس پر اعتراض کیا۔ یہ بیان 10 ستمبر کو سامنے آیا۔ احتجاج کے پیش نظر پولیس نے اسمبلی کے اطراف سکیورٹی بڑھا دی اور مظاہرین کو اسمبلی کی جانب جانے سے روک دیا۔