امریکہ میں ملازمت ختم ہونے کے بعد H-1B ویزا ہولڈرز کو ملنے والی 60 روزہ مہلت ختم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اس تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر ان غیر ملکی کارکنوں پر پڑ سکتا ہے جو ملازمت ختم ہونے کے بعد امریکہ میں رہ کر نئی نوکری تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ہندوستانی پیشہ ور افراد کی بھی ہے۔
امریکہ نے کیا تجویز پیش کی ہے؟
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے 60 روزہ گریس پیریڈ ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ وہ اضافی وقت ہے جو اس وقت بعض غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت ختم ہونے کے بعد امریکہ میں رہنے کے لیے ملتا ہے۔ یہ تجویز فیڈرل رجسٹر میں شائع ہونے کے بعد عوام کے لیے 60 دن تک کھلی رہے گی۔ اس دوران لوگ اس پر اپنی رائے یا اعتراضات جمع کرا سکیں گے۔ مجوزہ تبدیلی کا اطلاق H-1B کے علاوہ E-1، E-2، E-3، H-1B1، L-1، O-1 اور TN ویزا رکھنے والے بعض افراد پر بھی ہو سکتے ہے۔ 'DHS' کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد غیر ملکی شہری کی امیگریشن حیثیت اور اس ملازمت یا سرگرمی کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنا ہے جس کی بنیاد پر اسے امریکہ میں رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے انتظامی بوجھ کم ہوگا۔
H-1B کارکنوں پر کیا اثر پڑے گا؟
H-1B ویزا امریکہ میں خصوصی مہارت رکھنے والے غیر ملکی پیشہ ور افراد کو ملازمت دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں امریکی کمپنیاں اس پروگرام کے ذریعے ہندوستان اور دوسرے ممالک سے کارکنوں کو ملازمت دیتی ہیں۔ اس وقت اگر کسی H-1B کارکن کی ملازمت ختم ہو جاتی ہے تو اسے زیادہ سے زیادہ 60 دن تک امریکہ میں رہ کر نئی ملازمت تلاش کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ اس دوران وہ نیا آجر تلاش کرنے، ضروری کاغذی کاروائی مکمل کرنے یا امریکہ سے روانگی کی تیاری کر سکتا ہے۔ اگر نئی تجویز نافذ ہو جاتی ہے تو یہ 60 روزہ مہلت ختم ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں ملازمت ختم ہونے کے بعد کارکن کو امریکہ میں رہنے کے لیے کسی دوسری قانونی بنیاد کی ضرورت ہوگی، ورنہ اسے ملک چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔
ہندوستانیوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
H-1B پروگرام میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اس لیے گریس پیریڈ ختم ہونے کی صورت میں ہندوستانی کارکن بھی نمایاں طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ ملازمت اچانک ختم ہونے کی صورت میں انہیں امریکہ میں رہ کر دوسری نوکری تلاش کرنے کے لیے موجودہ 60 دن کی سہولت نہیں ملے گی۔ انہیں جلد نئی قانونی بنیاد حاصل کرنا یا امریکہ سے روانگی کے انتظامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔
یہ سہولت کب شروع ہوئی تھی؟
60 روزہ گریس پیریڈ 2016 میں سابق امریکی صدر اوباما کی انتظامیہ کے دور میں متعارف کرایا گیا تھا۔ اس کا مقصد ہنرمند غیر ملکی کارکنوں کو ایک ملازمت ختم ہونے کے بعد دوسری ملازمت تلاش کرنے کے لیے کچھ وقت دینا تھا۔ اب ٹرمپ انتظامیہ کی تجویز اس پالیسی کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔
کیا ملک بدری کی کاروائی بھی ہو سکتی ہے؟
امیگریشن لاء فرم فریگومین کے مطابق، گریس پیریڈ ختم ہونے سے بعض غیر ملکی کارکنوں کو مزید سنگین امیگریشن مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔کچھ معاملات میں انہیں نوٹس ٹو اپیئر (NTA) بھی جاری کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ دستاویز ہے جس کے ذریعے حکومت کسی شخص کے خلاف ملک بدری یا امریکہ سے بے دخلی کی کاروائی شروع کرتی ہے۔ فریگومین نے خاص طور پر H-1B، O-1 اور P ویزا زمروں کا ذکر کیا ہے، جہاں ملازمت ختم ہونے کے بارے میں حکومت کو اطلاع دینا ضروری ہو سکتا ہے۔
کتنے کارکن متاثر ہو سکتے ہیں؟
'DHS 'کے مطابق 2025 میں 65,752 ایسے بنیادی مستفیدین تھے جن کی ملازمت ختم ہوئی یا جنہوں نے اپنی مرضی سے آجر تبدیل کیا۔ یہ تعداد 2023 میں 80,034 تک پہنچ گئی تھی، جبکہ 2021 میں یہ 40,959 تھی۔ 2021 سے 2025 کے درمیان مجموعی طور پر 328,758 بنیادی مستفیدین کی ملازمت ختم ہوئی یا انہوں نے آجر تبدیل کیا۔ ان میں سے 5.77 فیصد کے لیے نئے آجر کی جانب سے نان امیگرنٹ کارکن کی نئی درخواست جمع کرائی گئی۔
H-1B ویزا کا سالانہ کوٹا کتنا ہے؟
امریکہ میں ہر سال عام کوٹے کے تحت 65,000 H-1B ویزے دستیاب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی اعلیٰ تعلیمی اداروں سے اعلیٰ ڈگری حاصل کرنے والے غیر ملکی شہریوں کے لیے مزید 20,000 ویزے مختص ہیں۔ H-1B پروگرام ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں کے لیے اہم ہے۔ اسی وجہ سے گریس پیریڈ ختم کرنے کی یہ تجویز ہندوستانی سمیت بڑی تعداد میں غیر ملکی پیشہ ور افراد کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ یہ ابھی صرف ایک تجویز ہے۔ حتمی فیصلہ ہونے تک موجودہ 60 روزہ گریس پیریڈ کے قوانین میں تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔