تلنگانہ ہائی کورٹ نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ حیدرآباد لبریشن ڈے کے موقع پر مجوزہ دو بائیک ریلیوں کے انعقاد کی اجازت دے۔ عدالت نے یہ حکم ان درخواستوں کی سماعت کے دوران دیا، جن میں پولیس کی جانب سے ریلیوں کی اجازت نہ دینے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ جسٹس ٹی مادھوی دیوی نے دونوں ’لنچ موشن‘ (lunch-motion petitions) درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے پولیس اور حکومت کے موقف پر سوالات اٹھائے۔ عدالت نے خاص طور پر یہ جاننا چاہا کہ قومی پرچم لے کر نکالی جانے والی موٹر سائیکل ریلی سے فرقہ وارانہ تشدد کس طرح پیدا ہو سکتا ہے۔ عدالت نے حکومت کی جانب سے پروگراموں کے انعقاد میں رکاوٹیں ڈالنے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اصولی طور پر ایسے پروگراموں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ امن و امان برقرار رکھنا اور ضروری انتظامات کرنا حکومت اور پولیس کی ذمہ داری ہے۔
پولیس نے ریلیوں کو اجازت نہ دینے کے لیے متعدد وجوہات پیش کی تھیں۔ ان میں امن و امان سے متعلق خدشات، ممکنہ فرقہ وارانہ کشیدگی، اسمبلی کے انتظامات، گنیش چترتھی کی تقریبات اور مجوزہ ریلیوں کے وقت ٹریفک پر پڑنے والا اضافی دباؤ شامل تھا۔ پہلی ریلی 12 ستمبر کو بالاپور سے چارمینار کے قریب واقع بھاگیہ لکشمی مندر تک نکالنے کی تجویز ہے۔ اس کا اہتمام بالاپور کے سماجی کارکن انڈیلا سریرامولو یادو کر رہے ہیں۔ ان کے سوشل میڈیا پروفائلز کے مطابق وہ بی جے پی کے مہیشورم حلقے کے انچارج بھی ہیں۔ دوسری ریلی خواتین کی موٹر سائیکل ریلی ہے، جو 15 ستمبر کو بھاگیہ لکشمی مندر سے اسمبلی کے قریب واقع سردار ولبھ بھائی پٹیل کے مجسمے تک نکالنے کی تجویز ہے۔ اس کا اہتمام بی جے پی تلنگانہ مہیلا مورچہ کی صدر وائی شلپا ریڈی کر رہی ہیں۔
درخواست گزاروں کے وکلاء نے دلیل دی کہ قومی پرچم لے کر نکلنے والے افراد اور گنیش چترتھی کی تقریبات میں شامل عقیدت مندوں کے درمیان تصادم کا خدشہ فرض کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دوسری ریلی اسمبلی اجلاس ختم ہونے کے بعد منعقد کی جائے گی۔ جسٹس مادھوی دیوی نے سوال کیا کہ اگر تقریباً 150 موٹر سائیکلوں کی وجہ سے انتظامی مسئلہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے تو اس کا متبادل انتظام کیوں نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ اگر مجوزہ وقت ٹریفک کے پیک آورز سے ٹکرا رہا ہے تو اوقات میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ دونوں درخواستوں کو نمٹاتے ہوئے عدالت نے کہا کہ انتظامیہ کو متبادل انتظامات پر غور کیے بغیر کسی پروگرام کی اجازت فوراً مسترد نہیں کرنی چاہیے۔ عدالت نے امن و امان برقرار رکھنے اور ضروری سکیورٹی انتظامات کی ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہوئے ریلیوں کی اجازت دینے کی ہدایت دی۔
حیدرآباد یومِ آزادی 1948 میں سابق ریاست حیدرآباد کے بھارتی یونین میں انضمام کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کو مختلف سیاسی جماعتیں مختلف ناموں اور سیاسی تناظر میں پیش کرتی رہی ہیں۔ بی جے پی اسے ’حیدرآباد لبریشن ڈے‘ کے طور پر مناتی ہے، جبکہ سابق بی آر ایس حکومت نے اسے ’قومی یکجہتی کے دن‘ کے طور پر منایا تھا۔