اتر پردیش کے ضلع ہمیر پور سے ایک انتہائی دردناک اور بڑا حادثہ سامنے آیا ہے، جہاں جمعہ کی علی الصبح بیتوا ندی پر بنائے جا رہے ایک زیرِ تعمیر پل کا ایک بڑا حصہ اچانک منہدم ہو گیا۔ اس خوفناک حادثے میں ملبے کے نیچے دب کر 6 مزدوروں کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ حادثے کے وقت تمام مزدور پل کے نیچے تھے۔ ہلاک ہونے والے مزدوروں میں سے 4 کا تعلق باندا اور 2 کا ہمیر پور سے ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ للپورہ تھانہ علاقے میں پیش آیا، جہاں فی الحال اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (SDRF) کی ٹیمیں راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں۔
تیز آندھی اور طوفان بنا حادثے کا سبب: حکا
یہ پل 90 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے، جو لال پورہ علاقے کے موراکندر پارسانی کو کرارا گاؤں سے جوڑتا ہے۔ اتر پردیش اسٹیٹ برج کارپوریشن اس دو لین والے پل کی تعمیر کر رہی ہے، جو تقریباً 700 میٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر، دھرم ویر سنگھ کا حوالہ دیتے ہوئے، 'دینک بھاسکر' نے اطلاع دی کہ بارش کے ساتھ طوفان کی وجہ سے پل کے سلیب کا ایک حصہ گرنے کے بعد مزدور جو نیچے سو رہے تھے، اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کی تحقیقات کی جائیں گی۔
وزیراعظم مودی اور سی ایم یوگی کا اظہارِ تعزیت؛ بچاؤ کام تیز کرنے کی ہدایت
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ کو جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور ملبے کے نیچے پھنسے لوگوں کو جلد از جلد باہر نکالنے کی سخت ہدایت دی ہے۔ سی ایم یوگی نے حکام کو زخمیوں کے بہتر علاج اور متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر مناسب معاوضہ فراہم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
واضح رہے کہ اس اہم پل کی تعمیر کا کام مارچ 2024 میں شروع کیا گیا تھا اور اسے دسمبر 2026 تک مکمل کیا جانا تھا، لیکن اس حادثے نے تعمیراتی معیار اور حفاظتی انتظامات پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔