سماجوادی پارٹی کے قد آور لیڈر اعظم خان کے بیٹےعبداللہ اعظم خان کو دوہرے پاسپورٹ معاملے میں ایک بڑی قانونی راحت ملی ہے۔ رامپور کی ایم پی-ایم ایل اےسیشن کورٹ نے نچلی عدالت کی طرف سے سنائی گئی 7 سال کی قید کی سزا کو پوری طرح سے منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت نے عبداللہ اعظم کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے مجسٹریٹ کورٹ کے پرانے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ اس فیصلے کے سامنے آتے ہی عبداللہ اعظم اور ان کے والد اعظم خان کے حامیوں اور سماجوادی پارٹی کے خیمے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
مجسٹریٹ کورٹ نے دسمبر 2025 میں سنائی تھی سزا
واضح رہے کہ اس ہائی پروفائل دوہرے پاسپورٹ کیس میں ایم پی-ایم ایل اے مجسٹریٹ کورٹ نے گزشتہ سال 5 دسمبر 2025 کو عبداللہ اعظم خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 7 سال کی سخت سزا سنائی تھی۔ نچلی عدالت نے انہیں دو الگ الگ تاریخِ پیدائش کی بنیاد پر دھوکہ دہی سے پاسپورٹ بنوانے کا قصوروار مانا تھا۔
اس فیصلے کے خلاف عبداللہ اعظم کے وکلاء نے سیشن کورٹ میں نظرِ ثانی کی اپیل دائر کی تھی، جس پر طویل سماعت کے بعد 25 مئی کو دونوں فریقین (استغاثہ اور صفائی) کی حتمی بحث مکمل ہوئی تھی اور عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ جمعہ کے روز سیشن کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھنے کے بجائے عبداللہ اعظم کی دلیلوں کو درست مانا اور سزا کو رد کر دیا۔
بی جے پی ایم ایل اے آکاش سکسینہ نے درج کرائی تھی ایف آئی آر:
یہ پورا معاملہ بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے موجودہ ایم ایل اے آکاش سکسینہ کی شکایت پر شروع ہوا تھا۔ آکاش سکسینہ نے 30 جولائی 2019 کو رامپور کے سول لائنس تھانے میں ایک مقدمہ درج کرایا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ عبداللہ اعظم نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے مختلف تاریخِ پیدائش دکھا کر دو پاسپورٹ حاصل کیے۔
الزام کے مطابق، ایک پاسپورٹ میں ان کی تاریخ پیدائش 1 جنوری 1993 درج تھی، جبکہ دوسرے پاسپورٹ میں 30 ستمبر 1990 لکھی گئی تھی۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ دونوں پاسپورٹ کا استعمال غیر ملکی سفر کے لیے کیا گیا۔
سزا منسوخ، مگر ابھی جیل میں ہی رہیں گے عبداللہ اعظم:
اگرچہ سیشن کورٹ سے عبداللہ اعظم خان کو اس بڑے معاملے میں کلین چٹ مل گئی ہے، لیکن اس کے باوجود ان کی جیل سے فوری رہائی کا راستہ ابھی صاف نہیں ہوا ہے۔ پولیس اور عدالتی ذرائع کے مطابق، ان کے خلاف کئی دیگر فوجداری اور سیاسی مقدمات بھی زیرِ التوا ہیں، جن کی سماعت سپریم کورٹ میں جاری ہے۔ اس لیے فی الحال وہ رامپور جیل میں ہی عدالتی تحویل میں رہیں گے۔