Friday, May 29, 2026 | 11 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • سپریم کورٹ سے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشور آنندکی پاکسوکیس میں پیشگی ضمانت برقرار،جانیے پورا معاملہ؟

سپریم کورٹ سے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشور آنندکی پاکسوکیس میں پیشگی ضمانت برقرار،جانیے پورا معاملہ؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 29, 2026 IST

سپریم کورٹ  سے  شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشور آنندکی پاکسوکیس میں پیشگی ضمانت برقرار،جانیے پورا معاملہ؟
سپریم کورٹ آف انڈیا نے جمعہ کے روز جیوترمٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشور آنند سرسوتی کو ایک بڑے معاملے میں بڑی راحت دی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے پاکسو (POCSO) ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے شنکراچاریہ کو دی گئی پیشگی ضمانت کو برقرار رکھا ہے۔
 
جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے شکایت کنندہ آشوتوش برہمچاری کی اس درخواست کو خارج کر دیا جس میں شنکراچاریہ کی ضمانت کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے شکایت کنندہ کی نیت اور واقعے کے وقت ان کی خاموشی پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد شنکراچاریہ اور ان کے شاگرد کی گرفتاری پر لگی روک اب بھی برقرار رہے گی۔
 
سپریم کورٹ نے شکایت کنندہ کو پھٹکار لگائی:
 
سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی بنچ نے شکایت کنندہ آشوتوش برہمچاری سے سخت لہجے میں پوچھا،آپ اس وقت خود وہاں موجود تھے، آپ کو سب کچھ معلوم تھا۔ تو پھر آپ نے اس وقت کیا کیا؟ جب آپ کو اس مبینہ جرم کے بارے میں پہلے سے پتہ تھا، تو آپ کسی اور مقصد سے پولیس کے پاس گئے تھے۔ آپ نے فوری طور پر پولیس کو اس کی اطلاع کیوں نہیں دی؟
 
اس سوال پر برہمچاری نے جواب دیا کہ وہ "شدید زخمی" تھے، لیکن عدالت ان کے اس جواب سے مطمئن نہیں ہوئی اور ان کی اپیل کو خارج کر دیا۔
 
برہمچاری نے ضمانت کی مخالفت میں کیا دلائل دیے؟
 
شکایت کنندہ آشوتوش برہمچاری نے سپریم کورٹ میں دائر اپنی اپیل میں دلیل دی تھی کہ ملزم کے خلاف لگائے گئے الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں، جن میں عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ایسے حساس معاملات میں پیشگی ضمانت صرف غیر معمولی یا نایاب ترین حالات میں ہی دی جانی چاہیے۔
 
درخواست میں یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ شنکراچاریہ عدالت کی جانب سے میڈیا سے بات چیت پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور مسلسل میڈیا میں بیانات دے رہے ہیں۔
 
کیا ہے پورا معاملہ؟
 
اتر پردیش کے شہر پریاگ راج (الہ آباد) میں مونی اماوسیا کے موقع پر پیدا ہونے والے ایک تنازع کے بعد سے جیوترمٹھ کے شنکراچاریہ اور بی جے پی کے درمیان سیاسی و مذہبی کھینچ تان چل رہی تھی۔ اسی دوران، سوامی رام بھدراچاریہ کے شاگرد آشوتوش برہمچاری نے 8 فروری کو شنکراچاریہ اور ان کے قریبی شاگرد مکوند آنند برہمچاری کے خلاف پاکسو ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرائی۔
 
ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ 18 جنوری کے آس پاس، آشرم میں دکشا (مذہبی تعلیم) حاصل کرنے کے لیے آنے والے نابالغ بچوں کا جنسی استحصال کیا گیا۔ اس معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے میرٹ کی بنیاد پر سماعت کرتے ہوئے مارچ میں ہی شنکراچاریہ اور ان کے شاگرد کو پیشگی ضمانت دے دی تھی، جسے اب سپریم کورٹ نے بھی درست قرار دیا ہے۔