ایودھیا رام مندر میں عطیات کے مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے میں پولیس نے آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ مندر میں جمع ہونے والے عطیات کی گنتی اور ریکارڈ کے دوران تقریباً 7 سے 7.5 کروڑ روپے کی گڑ بڑ کی گئی۔ ادھر ایودھیا رام مندر عطیہ گھوٹالہ کیس میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ رام مندر ٹرسٹ کے سربراہ چمپت رائے نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ایودھیا رام مندر کا انتظام شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیترا ٹرسٹ کرتا ہے۔ چمپت رائے اس ٹرسٹ کے صدر ہیں۔ جمعہ کی سہ پہر چمپت رائے اور ٹرسٹ کے ایک اور رکن انیل مشرا نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ رام مندر میں پیش آنے والے واقعات کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مندر ٹرسٹ کی درخواست پر اتر پردیش حکومت نے 13 جون کو ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی۔ ایس آئی ٹی نے 23 جون کو اپنی ابتدائی رپورٹ حکومت کو دی، جس کے بعد پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر میں درج تمام آٹھ ملزمان کو گرفتار کر لیا۔گرفتار افراد میں رام شنکر یادو (ٹنو یادو)، راماشنکر مشرا، انکلپ مشرا، لوکش مشرا، اویناش شکلا، منیش کمار یادو، سبھاش شریواستو اور کروناش پانڈے شامل ہیں۔ یہ تمام افراد عطیات کی گنتی، رسیدوں کے ریکارڈ یا عطیہ خانوں کی نگرانی جیسے کاموں سے وابستہ تھے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ رقم کو لے کر بے ضابطگیوں ، امانت میں خیانت، مجرمانہ سازش اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ تمام ملزمان کو ایودھیا سے گرفتار کیا گیا اور گرفتار کیے گئے آٹھ افراد میں سابق ڈرائیور، مندر کا خادم، سابق بینک ملازم، نقد رقم گننے والے ارکان اور عطیہ خانوں کی چابیاں سنبھالنے والے افراد شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ تمام افراد عطیات کی گنتی، ریکارڈ رکھنے یا رقم کی نگرانی کے عمل سے کسی نہ کسی صورت وابستہ تھے، اسی لیے ان سے مزید پوچھ تاچھ جاری ہے۔
اس سے قبل اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے بے ضابطگیوں کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا، جبکہ شری رام جنم بھومی تیرتھ کشترا ٹرسٹ نے بھی کسی قسم کی مالی بے ضابطگیوں سے انکار کیا تھا۔ ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے کا کہنا تھا کہ عطیات کی گنتی کے دوران وقتاً فوقتاً جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور اس میں کوئی بے قاعدگی سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے ملازمین کی گرفتاری پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اگر تحقیقات میں ضرورت ہو تو ٹرسٹ کے اعلیٰ عہدیداروں کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے۔
واضح رہے کہ جنوری 2024 میں افتتاح کے بعد سے رام مندر میں روزانہ بڑی تعداد میں عقیدت مند آتے ہیں اور مندر کو بھاری مقدار میں نقد عطیات موصول ہوتے ہیں۔ عطیات کی گنتی ایک مقررہ ٹیم کرتی ہے، جس میں بینک ملازمین اور ٹرسٹ کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔ فی الحال اس پورے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور حکام نے کہا ہے کہ مزید شواہد کی بنیاد پر آئندہ کاروائی کی جائے گی۔