جنوب مغربی مانسون نے طویل وقفے کے بعد دوبارہ زور پکڑ لیا ہے اور اب یہ ملک کے مزید علاقوں میں پھیل رہا ہے۔ تاہم بھارتی محکمۂ موسمیات (IMD) کے مطابق، مانسون کی سرگرمی میں تیزی آنے کے باوجود ملک میں اب بھی42 فیصد بارش کی کمی دیکھی گئی ۔
محکمۂ موسمیات نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں مانسون مزید مضبوط ہوا ہے اور اس کے باعث وسطی بھارت، مغربی ساحلی علاقوں اور مشرقی بھارت کے بعض حصوں میں بادلوں کی سرگرمی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ذیلی ہمالیائی مغربی بنگال، مدھیہ مہاراشٹر اور مغربی مدھیہ پردیش کے بعض علاقوں میں 12 سے 20 سینٹی میٹر تک شدید بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ گوا، آسام، تریپورہ، ساحلی اور جنوبی اندرونی کرناٹک اور تلنگانہ میں بھی 7 سے 11 سینٹی میٹر تک بارش ہوئی
ملک کے مختلف حصوں میں گرج چمک، تیز بارش اور تیز ہوائیں بھی ریکارڈ کی گئیں۔ پنجاب، ہماچل پردیش، ہریانہ، مدھیہ پردیش، مدھیہ مہاراشٹر، کچھ، چھتیس گڑھ اور گجرات میں 51 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں، جبکہ تمل ناڈو، مغربی اتر پردیش، کونکن، گوا، ودربھا ، مراٹھواڑا، جھارکھنڈ اور اتراکھنڈ کے بعض علاقوں میں 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں ریکارڈ کی گئیں۔
آئی ایم ڈی کے مطابق، اگرچہ بارش میں اضافہ ہوا ہے، لیکن ملک کے تمام بڑے موسمی خطوں میں اب بھی بارش کی کمی برقرار ہے۔ شمال مغربی بھارت میں 24 فیصد، وسطی بھارت میں 59 فیصد، جنوبی جزیرہ نما بھارت میں 43 فیصد اور مشرقی و شمال مشرقی بھارت میں 40 فیصد بارش کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں مانسون مزید آگے بڑھے گا اور وسطی، مغربی اور مشرقی بھارت کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر بارش ہونے کی توقع ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ چند دن کی شدید بارش گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ہونے والی بارش کی بڑی کمی کو فوری طور پر پورا نہیں کر سکے گی۔