بنگلورو کے قریب عظیم پریم جی یونیورسٹی کے کیمپس میں منگل کی شام سے کافی بڑے احتجاج رات تک ہوتے رہے۔ اے بی وی پی نے یہاں جموں کشمیر سے متعلق مبینہ اینٹی نیشنل سیمینار منعقد کرنے کا الزام لگایا۔ اے بی وی پی نے دعویٰ کیا کہ سیمینار میں ہندوستانی فوج کے خلاف مواد پیش کیا گیا اور علیحدگی پسند خیالات کو ہوا دی گئی۔
احتجاج کے دوران یونیورسٹی کے مرکزی سائن بورڈ پر سیاہی پوتی گئی۔ پولیس کے مطابق چند طلبہ کو احتیاطی تحویل میں لیا گیا ہے ۔اور تحقیقات جاری ہیں۔ کیمپس کے اطراف سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اے بی وی پی کا یہ گروپ زبردستی کیمپس میں گھس گیا۔ اور پولیس انہیں روکنے میں ناکام رہی۔
ایک طالب علم کو ہندوتوا گروپ کے ارکان نے مارا پیٹا۔ تشدد کے جواب میں سینکڑوں طلباء کیمپس میں جمع ہو گئے۔ طلباء کے درمیان گردش کرنے والی ویڈیوز میں بڑے گروپس کو ہندوتوا فاشزم کے خلاف نعرے لگاتے دیکھا گیا ۔۔ یہ لوگ حملہ کرنے والوں اور توڑ پھوڑ کرنے والوں سے جوابدہی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یونیورسٹی کے احتجاجی طلبا نے کیمپس میں بغیر کسی دھمکی یا تشدد کے مباحثے کرنے کے اپنے حق پر زور دیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا بیان
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یہ افراد نعرے لگاتے ہوئے کیمپس میں داخل ہوئے، املاک کو نقصان پہنچایا اور سیکیورٹی گارڈز و چند طلبہ کے ساتھ بدسلوکی کی۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس کو اطلاع دی گئی، جس پر پولیس موقع پر پہنچی اور صورتحال کو قابو میں کیا۔ بعض افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے الزام لگایا تھا کہ کیمپس میں جموں و کشمیر سے متعلق ایک متنازعہ پروگرام منعقد کیا جا رہا ہے۔ تاہم یونیورسٹی نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی پروگرام نہ تو منظور کیا گیا تھا اور نہ ہی منعقد ہوا۔
یونیورسٹی نے ایک بیان میں کہا کہ کیمپس میں کسی بھی پروگرام کے انعقاد کے لیے پیشگی اجازت لازمی ہوتی ہے اور اس معاملے میں کوئی باقاعدہ منظوری نہیں دی گئی تھی۔ انتظامیہ نے کیمپس میں بیرونی عناصر کے داخلے اور تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ یونیورسٹی نے طلبہ اور عملے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔