مرکزی حکومت کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ این سی ای آر ٹی کی طرف سے آٹھویں جماعت کے نصاب میں عدلیہ کی مختلف سطحوں پر بدعنوانی کے موضوع کو ہٹا دیا جائے گا۔ ہندوستان کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ آف انڈیا نے بھی نصابی کتاب میں اس موضوع کو شامل کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس تناظر میں مرکزی حکومت کے ذرائع نے ردعمل دیا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے متنازعہ موضوعات کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ایسے موضوعات کو نصاب میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ نصاب میں ایسے موضوعات کو شامل کرنا مناسب نہیں، متاثر کن موضوعات کو شامل کیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے سابق چیف جسٹس بی آر گاوائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "یہ صحیح اور مناسب نہیں ہے۔" موجودہ چیف جسٹس نے بھی اس پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
سینئر وکیل کپل سبل نے سپریم کورٹ کے نوٹس میں لایا ہے کہ این سی ای آر ٹی آٹھویں جماعت کے طلباء کو عدلیہ میں بدعنوانی کی تعلیم دے رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اس پیش رفت نے سب کو پریشان کر دیا ہے اور وہ ایسے اقدامات کو برداشت نہیں کرے گی جس سے عدالتی نظام کی مضبوطی کو نقصان پہنچے۔