نومولود بچہ اپنی تکلیف لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔ وہ صرف رونے، دودھ پینے کے انداز، جسمانی حرکت یا نیند کے پیٹرن کے ذریعے اشارے دیتا ہے۔ ایسے میں والدین کے لیے یہ سمجھنا بے حد ضروری ہو جاتا ہے کہ کون سی علامات معمول کا حصہ ہیں اور کن صورتوں میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر انکش کمّاوار۔ ماہر اطفال نے منصف ٹی وی کےمقبول پروگرام ہیلتھ اور ہم میں اہم جانکاری دی۔ ڈاکٹر انکش کے مطابق پیدائش کے فوراً بعد ماں کا دودھ بچے کے لیے سب سے اہم غذا ہے۔ پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ (ایکسکلوسِو بریسٹ فیڈنگ) دینا بہترین سمجھا جاتا ہے۔ بچے کو ہر دو گھنٹے بعد جگا کر دودھ پلانا ضروری نہیں، بلکہ جب بچہ خود طلب کرے تو فیڈ کرانا زیادہ بہتر ہے۔ تاہم اگر بچہ مسلسل دودھ لینے سے انکار کرے، کمزور دکھائی دے یا دودھ پیتے ہی سو جائے تو اس کی وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔
کبھی کبھار فیڈ کے بعد ہلکی مقدار میں دودھ کا منہ سے نکل آنا (اسپِٹ اپ) عام بات ہے، لیکن اگر بچہ زور لگا کر قے کرے، ہر فیڈ کے بعد زیادہ مقدار میں دودھ خارج ہو یا وزن نہ بڑھ رہا ہو تو یہ تشویش کی علامت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر بچہ بہت زیادہ اور تسلی نہ ہونے والا رونا روئے، بخار ہو، سانس تیز چل رہی ہو یا رنگ نیلا پڑ رہا ہو تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
نومولود میں سانس کی رفتار پر خاص نظر رکھنی چاہیے۔ اگر ایک منٹ میں سانسوں کی تعداد 60 سے زیادہ ہو، یا سانس لیتے وقت سینہ اندر کی طرف دھنسے، یا ہونٹ نیلے پڑ جائیں تو یہ خطرے کی علامت ہے۔ بخار بھی اہم اشارہ ہے۔ 99 ڈگری فارن ہائیٹ سے زیادہ درجہ حرارت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، خاص طور پر اگر بخار دوا دینے کے باوجود برقرار رہے۔
جلد کا پیلا یا نیلا ہونا بھی توجہ طلب ہے۔ پیلاہٹ عموماً یرقان (یرقانِ نوزائیدہ) کی علامت ہو سکتی ہے جبکہ نیلاہٹ آکسیجن کی کمی یا دل کے مسئلے کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔ اسی طرح اگر 24 گھنٹوں میں بچہ پیشاب نہ کرے یا مسلسل دست اور پانی کی کمی کے آثار نظر آئیں تو تاخیر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ نومولود کو شہد، گائے کا دودھ یا گھریلو ٹوٹکے دینا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ نال (ناف) کے حصے پر تیل یا ہلدی لگانے سے بھی انفیکشن کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ناف کے اردگرد سوجن، سرخی یا پیپ نظر آئے تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
یاد رکھیں، ہر رونا معمولی نہیں اور ہر نیند سکون کی علامت نہیں ہوتی۔ والدین کی بروقت توجہ اور درست فیصلہ ہی بچے کی صحت اور مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ اگر دل میں ذرا سا بھی شک ہو کہ کچھ ٹھیک نہیں، تو انتظار کے بجائے ماہر اطفال سے مشورہ کرنا ہی دانشمندی ہے۔اس موضوع پر تفصیل گفتگو کے لئے نیچے دیئے گئے ویڈیو کو دیکھیں۔