ریلوے ملازمتوں میں کٹوتی کی اےا ٓئی وائی ایف نے کی مذمت
مودی حکومت پر ریلوے میں کارپوریٹ سازش کا الزام
نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کرنےاور ریلوے کو نجکاری کا الزام
اے آئی وائی ایف کے زیرِ اہتمام ریل نیلائم پر احتجاجی دھرنا
اے آئی وائی ایف وفد کی ریلوے جنرل منیجر کو یادداشت پیش
ریاستی صدر و جنرل سیکریٹری، اے آئی وائی ایف تلنگانہ
ڈاکٹر سید ولی اللہ قادری / کلّوری دھریمیندر کا خطاب
آل انڈیا یوتھ فیڈریشن (اے آئی وائی ایف) تلنگانہ ریاستی کونسل نے انڈین ریلوے بورڈ کی جانب سے 26 اپریل کو “Manpower Rationalisation 2026–27” کے نام پر اعلان کردہ 2 فیصد ملازمتوں میں کٹوتی (تقریباً 29,608 عہدے کو ہٹانے) کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔ تنظیم نے الزام عائد کیا کہ یہ کوئی معمولی انتظامی قدم نہیں بلکہ ملک کے نوجوانوں پر براہِ راست حملہ اور عوامی شعبے کو کارپوریٹ طاقتوں کے حوالے کرنے کی ایک سازش ہے۔
ریل نیلائم پردھرنا، ایس سی آر منیجرکو میمورنڈم پیش
اے آئی وائی ایف قومی کمیٹی نے حکومت کو اس فیصلے کو فوری واپس لینے کے مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کی جانب سے دی گئی کال پر اے آئی وائی ایف تلنگانہ ریاستی کمیٹی نے سکندرآباد کے ریل نیلائم کے سامنے احتجاجی دھرنا منظم کیا۔ بعد ازاں اے آئی وائی ایف کے ایک وفد نے ساؤتھ سنٹرل ریلوے کے جنرل منیجر سنجے کمار سریواستو کو یادداشت پیش کی۔
حکومت کا فیصلہ مخالف روزگار اور مخالف نوجوان
اس موقع پر اے آئی وائی ایف تلنگانہ کے ریاستی صدر ڈاکٹر سید ولی اللہ قادری اور جنرل سیکریٹری کلّوری دھریمیندر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی ریلوے میں تقریباً 14,80,455 منظور شدہ عہدے موجود ہیں، مگر اس وقت صرف تقریباً 10 لاکھ ملازمین کام کر رہے ہیں، جبکہ 3 سے 4 لاکھ عہدے خالی پڑے ہیں۔ ایسی صورتحال میں مزید 2 فیصد ملازمتوں میں کٹوتی کرنا واضح طور پر نوجوان مخالف اور روزگار مخالف پالیسی ہے۔
مخلوعہ عہدوں پربھرتی نہیں، ملازمتوں کوکیا جارہاہےختم
انہوں نے کہا کہ ایک طرف لاکھوں خالی عہدوں کو پر نہیں کیا جا رہا، دوسری طرف ملازمتوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ “ریشنلائزیشن” کے نام پر روزگار کے مواقع ختم کیے جا رہے ہیں، نئی بھرتیوں کو روکا جا رہا ہے، سرکاری ملازمتوں کو بتدریج کم کیا جا رہا ہے اور کارپوریٹ و نجی ٹھیکیداروں کے لیے راستہ ہموار کیا جا رہا ہے۔ یہ کوئی اصلاحات نہیں بلکہ نجکاری کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے کارکردگی نہیں بلکہ ملازمتوں کا قتلِ عام کہا جانا چاہیے۔
شدید دباو میں ریلوے ملازمین
رہنماؤں نے کہا کہ ریلوے کے اہم شعبے پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ لوکو پائلٹس، مینٹیننس اسٹاف، سگنلنگ عملہ اور ٹیکنیکل ورکرز کم اسٹاف کی وجہ سے طویل اوقات تک کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ملازمتوں میں مزید کٹوتی ریلوے کی حفاظت کو خطرے میں ڈالے گی اور عوام کی جانوں کے ساتھ کھلواڑ ہوگا۔انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت سے سوال کیا کہ “ہر سال 2 کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کرنے والی حکومت آج 2 فیصد ملازمتوں میں کٹوتی کیوں کر رہی ہے؟ کیا یہی نوجوانوں سے کیا گیا وعدہ تھا؟ کیا یہی ترقی ہے؟ کیا یہی نیا بھارت ہے؟”
حکومت کی بے حسی اور لا پرواہی
انہوں نے مزید کہا کہ آر آر بی NTPC، گروپ-D، جونیئر انجینئر (JE) اور ٹیکنیشن بھرتیوں کے نتائج گزشتہ دو برسوں سے زیر التوا ہیں، جس کی وجہ سے لاکھوں نوجوان بے یقینی اور انتظار کا شکار ہیں۔ مرکزی حکومت کی بے حسی اور لاپرواہی قابلِ مذمت ہے۔
اے آئی وائی ایف نےمطالبہ:
- بھارتی ریلوے کے تمام خالی عہدوں کو فوری پُر کیا جائے،
- 2 فیصد ملازمتوں میں کٹوتی کا فیصلہ واپس لیا جائے،
- تمام زیر التوا RRB نتائج فوری جاری کیے جائیں،
- کنٹریکٹ نظام کو ختم کرکے مستقل ملازمتیں دی جائیں،
- ریلوے کو نجکاری سے محفوظ رکھا جائے۔
تنظیم نے خبردار کیا کہ اگر ان مطالبات کو نظرانداز کیا گیا تو ملک بھر میں نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر منظم کرکے احتجاجی تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔
اس احتجاج میں اے آئی وائی ایف کے ریاستی ورکنگ صدر نیرلکانتی سریناتھ، ریاستی نائب صدر ٹی. ستیہ پرساد، سریمان، ریاستی خزانچی پیرابوئینا مہندر، ریاستی کمیٹی اراکین شیخ محمود، سلمان بیگ، ایلّنکی مہیش، شیکھر، مدھوکر، راج کمار، میسرم بھاسکر، آنجنیلو، چاری، عظیم، بھارت، علی، کرن، رمیش اور دیگر قائدین شریک تھے۔