Friday, May 08, 2026 | 20 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • کیرالہ کا اگلا وزیراعلیٰ کون؟ کے سی وینوگوپال کو 43 ایم ایل اے کی حمایت،لیکن مسلم لیگ کا موقف الگ؟

کیرالہ کا اگلا وزیراعلیٰ کون؟ کے سی وینوگوپال کو 43 ایم ایل اے کی حمایت،لیکن مسلم لیگ کا موقف الگ؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 08, 2026 IST

کیرالہ کا اگلا وزیراعلیٰ کون؟ کے سی وینوگوپال کو 43 ایم ایل اے کی حمایت،لیکن مسلم لیگ  کا موقف الگ؟
کیرالہ میں کانگریس کی زیرِ قیادت یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (UDF) کی شاندار جیت کے بعد اب وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے رسہ کشی تیز ہو گئی ہے۔ اس عہدے کے لیے اے آئی سی سی (AICC) کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال اور قائدِ حزبِ اختلاف وی ڈی ستیشن کے نام سب سے آگے بتائے جا رہے ہیں۔
 
 وینوگوپال کے حق میں ارکانِ اسمبلی کی اکثریت:
 
ذرائع اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، اے آئی سی سی کے مبصرین اجے ماکن اور مکول واسنک کی موجودگی میں ہونے والے اجلاس میں کانگریس کے 43 نو منتخب ارکانِ اسمبلی نے کے سی وینوگوپال کو وزیراعلیٰ بنانے کی حمایت کی ہے۔ کچھ ارکان نے اپنی رائے محفوظ رکھی ہے اور فیصلہ ہائی کمان پر چھوڑ دیا ہے۔
 
 مسلم لیگ (IUML) کا موقف: ستیشن پہلی پسند
 
یو ڈی ایف (UDF) کی دوسری بڑی حلیف جماعت، انڈین یونین مسلم لیگ (IUML) نے مبینہ طور پر وی ڈی ستیشن کی حمایت کی ہے۔ مسلم لیگ کے رہنماؤں نے مبصرین کو مشورہ دیا ہے کہ: کسی موجودہ رکنِ اسمبلی (MLA) کو ہی وزیراعلیٰ بنانا چاہیے تاکہ ضمنی انتخابات (By-elections) کی ضرورت نہ پڑے۔
 
 یاد رہے کہ کے سی وینوگوپال فی الحال رکنِ پارلیمنٹ ہیں، جبکہ وی ڈی ستیشن اسمبلی کے رکن ہیں۔ مسلم لیگ کے پاس 22 ارکانِ اسمبلی ہیں اور ان کی رائے اتحاد میں کافی اہمیت رکھتی ہے۔
 
 فیصلہ صدرِ کانگریس ملکارجن کھرگے کے ہاتھ میں
 
تھرواننت پورم میں منعقدہ کانگریس قانون ساز پارٹی (CLP) کے اجلاس میں ایک لائن کی قرارداد منظور کی گئی، جس کے تحت پارٹی صدر ملکارجن کھرگے کو حتمی لیڈر منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ مبصرین نے ہر رکنِ اسمبلی سے انفرادی طور پر بات چیت کی ہے اور اب وہ اپنی رپورٹ دہلی میں ہائی کمان کو پیش کریں گے۔
 
 دوڑ میں شامل دیگر رہنما اور احتجاج
 
 سینیئر لیڈر رمیش چنیتھلا بھی اس دوڑ میں شامل بتائے جا رہے ہیں۔
 تھرواننت پورم میں سیاسی درجہ حرارت اس وقت بڑھ گیا جب وینوگوپال اور ستیشن دونوں کے حامیوں نے اپنے اپنے لیڈر کے حق میں پوسٹرز لگائے اور مظاہرے کیے۔
 
کیرالہ میں کانگریس ہائی کمان کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک ایسے لیڈر کا انتخاب کرے جو نہ صرف ارکانِ اسمبلی کو متحد رکھے بلکہ حلیف جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ کو بھی اعتماد میں لے سکے۔