Thursday, September 10, 2026 | 26 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • بالغوں کے لیے ویکسینیشن کتنی ضروری؟ ڈاکٹر محمد وسیم نے بتائی اہم باتیں

بالغوں کے لیے ویکسینیشن کتنی ضروری؟ ڈاکٹر محمد وسیم نے بتائی اہم باتیں

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 10, 2026 IST

بالغوں کے لیے ویکسینیشن کتنی ضروری؟ ڈاکٹر محمد وسیم نے بتائی اہم باتیں
بچپن میں ویکسین لگوانا ہماری صحت کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے، لیکن اکثر لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ بالغ افراد کو بھی بعض ویکسینز کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص طور پر بزرگوں، حاملہ خواتین، ذیابیطس کے مریضوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے ویکسینیشن کئی سنگین انفیکشنز سے تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ماہرامراضِ تنفس ڈاکٹر محمد وسیم کے مطابق بالغوں میں ویکسینیشن کے حوالے سے آگاہی کی کمی ایک بڑی وجہ ہے کہ لوگ ضروری ویکسینز وقت پر نہیں لگواتے۔ بچپن میں ویکسینیشن کے لیے اسکول، اسپتال اور یاد دہانی کا ایک باقاعدہ نظام موجود ہوتا ہے، لیکن بالغ ہونے کے بعد لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کا مدافعتی نظام مکمل طور پر مضبوط ہو چکا ہے۔
 
فلو کو معمولی سمجھنا خطرناک
 
ڈاکٹر محمد وسیم نے فلو کو محض معمولی نزلہ زکام سمجھنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انفلوئنزا بعض افراد میں سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔ بزرگوں، حاملہ خواتین اور دل، پھیپھڑوں یا ذیابیطس جیسے دائمی امراض میں مبتلا افراد میں فلو نمونیا، سانس کی شدید تکلیف اور اسپتال میں داخلے کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فلو وائرس مسلسل اپنی شکل تبدیل کرتے رہتے ہیں، اسی لیے سالانہ فلو ویکسین کی سفارش کی جاتی ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو زیادہ خطرے والے گروپ میں شامل ہیں۔
 
موسم کی تبدیلی سے نزلہ زکام کیوں بڑھتا ہے؟
 
موسم خود بیماری پیدا نہیں کرتا، تاہم موسم کی تبدیلی بعض وائرسز کے پھیلاؤ کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتی ہے۔ سرد یا بدلتے موسم میں لوگ زیادہ وقت بند جگہوں پر گزارتے ہیں، جس سے انفلوئنزا اور دیگر وائرسز ایک شخص سے دوسرے تک آسانی سے پہنچ سکتے ہیں۔
 
نمونیا سے نوجوان بھی محفوظ نہیں
 
ڈاکٹر محمد وسیم کے مطابق نمونیا صرف بزرگوں کے لیے خطرہ نہیں ہے۔ کم عمر بالغ افراد بھی شدید نمونیا کا شکار ہو سکتے ہیں، خصوصاً وہ لوگ جو تمباکو نوشی کرتے ہیں، دمہ یا دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں یا جن کا مدافعتی نظام کمزور ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کووڈ-19 کی ویکسین فلو یا نمونیا سے مکمل تحفظ نہیں دیتی۔ مختلف بیماریوں کے خلاف مختلف ویکسینز کی ضرورت ہوتی ہے، جن میں فلو اور نموکوکل ویکسین بھی شامل ہیں۔
 
ویکسین کے بعد بھی نزلہ ہو تو؟
 
ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ فلو ویکسین لگوانے کے بعد نزلہ یا بخار ہو جائے تو ویکسین ناکام ہوگئی۔ ڈاکٹر کے مطابق ویکسین کے بعد جسم کو مدافعت پیدا کرنے میں تقریباً دو ہفتے لگ سکتے ہیں، جبکہ ہر نزلہ زکام فلو کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ اسی طرح فلو ویکسین خود فلو پیدا نہیں کرتی۔ ویکسین کی اقسام بیماری پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں، البتہ ویکسین کے بعد ہلکا بخار یا جسم میں درد جیسی عارضی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
 
دمہ اور COPD کے مریض خصوصی احتیاط کریں
 
دمہ اور COPD کے مریضوں کے لیے فلو اور نمونیا سے بچاؤ خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ انفیکشن ان کی سانس کی بیماری کو مزید شدید کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر محمد وسیم نے ایسے مریضوں کو اپنے معالج سے ویکسینیشن کے بارے میں باقاعدہ مشورہ کرنے کا مشورہ دیا۔
 
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی 45 سالہ شخص ذیابیطس کا مریض ہے، اکثر سفر کرتا ہے اور اس نے بالغوں کی ویکسینز نہیں لگوائی ہیں تو اسے اپنے فیملی فزیشن یا ماہر امراضِ تنفس سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق سالانہ فلو ویکسین، نموکوکل ویکسین اور ہیپاٹائٹس بی یا Tdap جیسی ویکسینز کی ضرورت کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
 
ماہرین کے مطابق ویکسینیشن کا فیصلہ ہر شخص کی عمر، صحت، بیماریوں، پیشے، سفر اور سابقہ ویکسینیشن ریکارڈ کو دیکھ کر کیا جانا چاہیے۔ اس لیے بالغ افراد کو اپنی ویکسینیشن کی ضرورت کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔