Saturday, March 07, 2026 | 17 رمضان 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • رمضان میں مسجدِ اقصیٰ پر پابندی: اسرائیل نے جمعہ کی نماز پر لگا ئی روک

رمضان میں مسجدِ اقصیٰ پر پابندی: اسرائیل نے جمعہ کی نماز پر لگا ئی روک

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Mar 06, 2026 IST

رمضان  میں مسجدِ اقصیٰ پر پابندی: اسرائیل نے جمعہ کی نماز پر لگا ئی روک
اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجدِ اقصیٰ میں جمعہ کی نمازپر  روک لگا دی ہے۔ یہ فیصلہ رمضان کے مقدس مہینے میں کیا گیا ہے، جس سے مسلم کمیونٹی میں غصہ اور تشویش پھیل گئی ہے۔ اسرائیلی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ قدم سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اٹھایا گیا ہے، خاص طور پر ایران کے ساتھ جاری تنازع کے پیشِ نظر۔
 
مکمل معاملہ کیا ہے؟
  
حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کاروائی شروع کی ہے، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور علاقے پر مسلسل میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، ان حملوں کے خطرے کی وجہ سے پرانے شہر (اولڈ سٹی) میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ مسجدِ اقصیٰ (جسے ٹیمپل ماؤنٹ بھی کہا جاتا ہے)، ویسٹرن وال، چرچ آف دی ہولی سیپلکر سمیت تمام اہم مذہبی مقامات پر داخلہ کچھ عرصے کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ کسی بھی مذہب کے زائرین یا سیاحوں کو اگلی اطلاع تک جانے کی اجازت نہیں ہے۔ پرانے شہر میں صرف مقامی رہائشیوں اور چند دکانداروں کو ہی آنے جانے کی اجازت ہے۔
 
یہ پابندی رمضان کے دوران لگی ہے، جو مسلمانوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، مسجدِ اقصیٰ کو مسلسل کئی دنوں سے بند رکھا گیا ہے، اور جمعہ کی نماز پر روک لگانا حالیہ تاریخ میں غیر معمولی قدم سمجھا جا رہا ہے۔ رمضان کے ابتدائی جمعوں میں بھی اسرائیل نے سخت پابندیاں لگائی تھیں، جیسے ویسٹ بینک سے صرف 10,000 لوگوں کو داخلے کی اجازت، لیکن اب صورتحال مزید سخت ہو گئی ہے۔
 
اسرائیلی فریق کا بیان:
 
اسرائیلی پولیس اور سول ایڈمنسٹریشن نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ہوم فرنٹ کمانڈ کے احکامات کے تحت لیا گیا ہے، تاکہ عوامی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ایران کے میزائل حملوں کے خطرے کی وجہ سے پرانے شہر کو بند رکھنا ضروری بتایا گیا ہے۔
 
تنقید اور ردعمل:
 
مسجدِ اقصیٰ کے سینئر امام شیخ اکرمہ صابری سمیت مذہبی رہنماؤں نے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اکثر سیکورٹی کا بہانہ بنا کر مسجد کو بند کرنے کی کوشش کرتا ہے، جو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ فلسطینی اور مسلم کمیونٹی اسے مذہبی مقامات پر کنٹرول بڑھانے کی سازش سمجھ رہی ہے۔
 
علاقائی تنازع کا سیاق:
 
یہ پابندی اسرائیل-امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بڑے تنازع کا حصہ لگتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ایران پر حملوں میں 1,200 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ اسرائیل میں ایرانی حملوں سے 9-10 اموات ہوئی ہیں۔ یہ جنگ اب لبنان اور دیگر علاقوں تک پھیل رہی ہے۔یہ صورتحال انتہائی حساس ہے اور آگے کیا ہوتا ہے، اس پر سب کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں۔