پارلیمنٹ میں وقف بل منظور ہو گیا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے اس بل پر شدید اعتراض ظاہر کیا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس بل کی مخالفت میں صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کا وقت مانگا ہے۔مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے پریس کو بتایا کہ بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے اپنے خط میں ملاقات کی وجہ بتاتے ہو ئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ سے منظوروقف قانون پر اپنی رضامندی دینے سے پہلے آپ ہماری بات ضرور سنیں کہ کس طرح یہ قانون دستور ہند کے بنیادی حقوق کے منافی اور مسلمانوں کے مفادات پر ضرب کاری ہے۔
خط میں مزید کیا کہا گیا ہے؟
خط میں آگے کہا گیا ہمارا احساس ہے کہ قانون کی متعدد دفعات ازسرنو غور و فکر کی طالب ہیں اس لئے کہ وہ دستور میں دیئے گئے بنیادی حقوق سے راست متصادم ہیں بالخصوص مذہبی آزادی، برابری اور مذہبی اداروں کے تحفظ کے تعلق سے۔ اوقاف کا مسلمانوں کی مذہبی اور فلاحی سرگرمیوں میں ایک تاریخی رول رہا ہے۔ ہمارا احساس ہے کہ وقف قانون میں اس وقت جو ترمیمات کی گئیں ہیں وہ اوقاف کے انتظام و انصرام اور اس کی خودمختاری کو بری طرح متاثر کرتی ہیں۔ڈاکٹر الیاس کے مطابق جنرل سیکریٹری بورڈ نے اپنے خط میں صدر جمہوریہ سے استدعا کی کہ حالات کی سنگینی اور ملک کی ایک بڑی اقلیت کی مذہبی آزادی اور دستوری حقوق کے تحفظ کا تقاضہ ہے کہ آپ ہمیں فوری ملاقات کا وقت دیں کہ ہم اپنی تشویش آپ کے سامنے رکھ سکیں تاکہ دستور کے دائرے میں اس کا مداوا ہو سکے۔
مسلمانوں کو دھوکہ دیا گیا !
اے آئی ایم پی ایل بی نے اپوزیشن پارٹیوں اور ممبران پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پارلیمنٹ میں بل کی سخت مخالفت کی اور مسلم کمیونٹی کی آواز اٹھائی۔ اسی وقت، بورڈ نے این ڈی اے کے حلقوں جیسے نتیش کمار، چندرابابو نائیڈو، چراغ پاسوان اور جینت چودھری پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ ان لیڈروں کی ہمیشہ مسلمانوں نے حمایت کی ہے کیونکہ وہ خود کو سیکولر کہتے ہیں، لیکن اب انہوں نے مسلمانوں کے جذبات سے غداری کی ہے۔