• News
  • »
  • قومی
  • »
  • نفرتوں کے بازار میں بھائی چارگی کی مثال:ہندو گھر سے نکلا خان بابا کا جنازہ،نم آنکھوں کے ساتھ کیا الوداع

نفرتوں کے بازار میں بھائی چارگی کی مثال:ہندو گھر سے نکلا خان بابا کا جنازہ،نم آنکھوں کے ساتھ کیا الوداع

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Jan 11, 2026 IST

نفرتوں کے بازار میں بھائی چارگی کی مثال:ہندو گھر سے نکلا خان بابا کا جنازہ،نم آنکھوں کے ساتھ کیا الوداع
موجودہ دور میں جہاں  ہر طرف نفرت کی بازار سرگرم ہے،دھرم ،مذہب کے نام پر تفریق  عروج پر ہے،انسانیت کو  شرمسار  کر دینے والے واقعات رو نما ہے،اسی  بیچ  مہاراشٹرسے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے،جوانسانیت کے لیے ایک مثال اور ہندوستان کے گنگا، جمنا تہذیب کی اصل پہچان ہے۔
 
 در اصل،مہاراشٹر کے جلگاؤں کے قریب یاول قصبے میں قیوم خان عرف خان بابا نامی ایک بزرگ  شخص ،جو دیوریا کے ایک ہندو خاندان میں سنار کا کام کررہے تھے،اور  60 سال سے اس کام سے وابستہ تھے،گزشتہ دنوں قریب 100 سال کی عمر میں خان باباکی وفات ہو گئی۔جسکے بعد  اس ہندو خاندان کو خان بابا کی یاد میں غم زدہ اور پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے دیکھا گیا ،صرف یہاں تک ہی نہیں ،بلکہ خان بابا کا جنازہ بھی مسلم طرز پر اسی خاندان کے در سے نکلا۔
 
بتا دیں کہ خان بابا شہر کے قاضی پورہ علاقے میں رہتے تھے۔ وہ بچپن سے اسی سونار خاندان کے لیے کام کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب بڑھاپے اور بیماری نے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اسے کام کرنے کے قابل نہیں چھوڑ ا، اسکے بعد ، ہندو سونار خاندان نے اسے کبھی  چھوڑا نہیں، بلکہ اپنے خاندان کے ایک فرد کی طرح اس کی دیکھ بھال کی۔اور اس دنیا سے پیار اور محبت کے ساتھ  انہیں الوداع کیا۔
 
خان بابا کے انتقال کی خبر ملتے ہی پونے، ممبئی اور دیگر شہروں سے سونار خاندان کے تمام رشتہ دار یاول میں جمع ہوگئے۔اور انسانیت کی ایک شاندار مثال قائم کی۔ خان بابا کے خاندان کی خواہش کے مطابق ان کا جنازہ اس ہندو خاندان کے گھر سے مسلم طریقے سے نکالا گیا۔  سونار خاندان کے نوجوان، جو ممبئی اور پونے سے آئے تھے، خان بابا کو اپنے کندھوں پر اٹھائے اور شہر کے قبرستان میں دفن ہونے تک ان کے ساتھ رہے اور نم آنکھوں سے انہوں نے اپنے خان بابا اس دنیا سے الوداع کیا۔