اتر پردیش کے ضلع ہاپوڑ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک ایسی تصویر سامنے آئی ہے جس نے نفرت کی دیواروں کو گرا کر محبت کا پیغام دیا ہے۔ یہاں ایک ہندو نوجوان، ارجن کی ناگہانی موت کے بعد اس کے مسلم پڑوسیوں نے نہ صرف غمزدہ خاندان کو سہارا دیا، بلکہ ہندو رسم و رواج کے مطابق ارجن کی آخری رسومات کو انجام دیا۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
رپورٹس کے مطابق ارجن کی موت ٹرین کی زد میں آنے سے ہوئی۔ جیسے ہی یہ افسوسناک خبر محلے میں پہنچی، پورے علاقے میں ماتم چھا گئی۔ ارجن کا خاندان گزشتہ 15 سالوں سے ایک مسلم اکثریتی علاقے میں رہ رہا تھا۔ خاندان کی مالی حالت اور دیگر پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے محلے کے مسلمان آگے آئے اور انہوں نے آخری رسومات کے تمام انتظامات خود سنبھال لیے۔
انسانیت سب سے بڑا مذہب:
مقامی نوجوانوں نے جذباتی منظر پیش کرتے ہوئے ارجن کی ارتھی کو اپنے کندھوں پر اٹھایا اور 'شمشان گھاٹ' تک پہنچایا۔ اس موقع پر موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ ،ہمارے لیے انسانیت سے بڑا کوئی مذہب نہیں ہے۔ ارجن ہمارے خاندان کا حصہ تھا، اور دکھ کی اس گھڑی میں اپنے پڑوسی کے ساتھ کھڑا ہونا ہمارا اخلاقی اور انسانی فرض ہے۔
خاندان کے تاثرات:
ارجن کے اہل خانہ اس ہمدردی کو دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ اتنے سالوں میں انہیں کبھی یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ وہ کسی دوسرے مذہب کے لوگوں کے درمیان رہ رہے ہیں۔ مسلم بھائیوں نے جس طرح ان کے بیٹے کو آخری وداعی دی، وہ ان کا احسان کبھی نہیں بھول سکتے۔
محبت کا پیغام:
آج کے دور میں جہاں اکثر تناؤ کی خبریں سرخیوں میں رہتی ہیں، ہاپوڑ کی اس بستی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ،انسانیت سے بڑھ کر کچھ نہیں۔مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہی اصل ہندوستانی تہذیب ہے۔نفرت کے شور میں آج بھی بھائی چارے کی آواز سب سے طاقتور ہے۔