• News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • شوپیاں میں سیب کے باغات کو نقصان کا معاملہ، ایگرو کیمیکل ڈیلرز نے غیر جانبدارانہ سائنسی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

شوپیاں میں سیب کے باغات کو نقصان کا معاملہ، ایگرو کیمیکل ڈیلرز نے غیر جانبدارانہ سائنسی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 22, 2026 IST

شوپیاں میں سیب کے باغات کو نقصان کا معاملہ، ایگرو کیمیکل ڈیلرز نے غیر جانبدارانہ سائنسی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا
شوپیاں: کشمیر کے ضلع شوپیاں کے مختلف علاقوں میں سیب کے باغات کو پہنچنے والے نقصان کے بعد باغبانوں میں تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ ایگرو کیمیکل ڈیلرز ایسوسی ایشن نے معاملے کی مکمل، غیر جانبدارانہ اور سائنسی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اصل وجہ سامنے آئے بغیر زرعی کیمیکل ڈیلرز کو موردِ الزام ٹھہرانا ناانصافی ہوگی۔
 
ایسوسی ایشن کے صدر نے متاثرہ باغبانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی کسانوں کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا ہے، تاہم تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی نتیجے پر پہنچنا درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی کیمیکل ڈیلرز طویل عرصے سے باغبانی کے شعبے کو کیڑے مار ادویات، کھادیں اور دیگر ضروری زرعی سامان فراہم کر رہے ہیں اور فصل کے موسم میں کسانوں کو قرض کی سہولیات بھی مہیا کرتے رہے ہیں۔
 
انہوں نے بتایا کہ زیرِ بحث زرعی پروڈکٹ کو ضروری جانچ کے بعد محکمہ زراعت کی باضابطہ منظوری اور رجسٹریشن حاصل تھی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق محکمہ باغبانی، محکمہ زراعت اور شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین پر مشتمل مشترکہ ٹیموں نے متاثرہ باغات کا دورہ کیا ہے۔
 
نقصان کی حقیقی وجوہات جاننے کے لیے پتوں، پودوں اور دیگر نمونوں کو لیبارٹری جانچ کے لیے بھیجا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ موسم میں تبدیلی، درجہ حرارت میں اچانک اتار چڑھاؤ، ژالہ باری اور دیگر ماحولیاتی عوامل بھی باغات کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتے ہیں۔
 
صدر نے مزید کہا کہ ماہرین کے مطابق جدید زرعی طریقوں اور گروتھ ریگولیٹرز کے استعمال سے بعض اوقات فصلیں موسمی دباؤ کے مقابلے میں زیادہ حساس ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ تحقیقاتی رپورٹ آنے تک الزام تراشی سے گریز کیا جائے اور مستقبل کی کارروائی صرف سائنسی شواہد اور حقائق کی بنیاد پر کی جائے۔