بھارتی شیئر بازار نے پیر کے روز مثبت آغاز کیا، حالانکہ عالمی سطح پر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ بمبئی اسٹاک ایکسچینج (BSE) کا حساس انڈیکس سینسیکس افتتاحی کاروبار میں تقریباً 290 پوائنٹس کی بڑھت کے ساتھ کھلا جبکہ نفٹی 50 میں 70 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس مثبت رجحان نے سرمایہ کاروں میں اعتماد پیدا کیا اور مارکیٹ کے اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔
دوسری جانب بھارتی کرنسی روپیہ بھی مضبوطی کے ساتھ کھلا۔ روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے مضبوط ہو کر 94.33 پر کھلا جبکہ گزشتہ کاروباری دن اس کی بندش 94.36 فی ڈالر پر ہوئی تھی۔ ماہرین کے مطابق روپیہ کی مضبوطی اور اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ عالمی سرمایہ کاروں کا مثبت رویہ اور بیرونی سرمایہ کاری کا بڑھنا ہے۔
حالیہ دنوں میں عالمی منڈیوں کی نظریں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات پر مرکوز ہیں۔ اگرچہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، تاہم سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ سفارتی کوششیں کسی مثبت نتیجے تک پہنچ سکتی ہیں۔ اسی امید نے ایشیائی اور بھارتی مارکیٹوں میں بہتری پیدا کی۔
بازار کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کے لیے خام تیل کی قیمتیں انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔ اگر عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اثر بھارت کی درآمدی لاگت، مہنگائی، روپیہ اور مجموعی معیشت پر پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے سرمایہ کار امریکہ۔ایران تعلقات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
پیر کے روز مارکیٹ میں تیزی کی ایک اور اہم وجہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی خریداری رہی۔ گزشتہ سیشن میں غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے بھارتی شیئروں میں نمایاں سرمایہ کاری کی جس سے مارکیٹ کو سہارا ملا۔ بینکاری، توانائی، آئی ٹی اور ٹیلی کام شعبوں کے حصص میں خاصی سرگرمی دیکھی گئی۔ ریلائنس انڈسٹریز کے حصص میں بھی اضافہ ہوا جس کی ایک وجہ جیو پلیٹ فارمز کے متوقع آئی پی او اور کمپنی کے مصنوعی ذہانت اور گرین انرجی منصوبوں کے حوالے سے مثبت توقعات ہیں۔
عالمی سطح پر بھی ایشیائی منڈیاں ملا جلا رجحان دکھا رہی ہیں۔ جاپان، جنوبی کوریا اور چین کی مارکیٹوں میں بہتری دیکھی گئی جبکہ بعض دیگر بازاروں میں محتاط کاروبار ہوا۔ سرمایہ کار اس وقت نہ صرف مشرق وسطیٰ کی صورتحال بلکہ امریکی شرح سود، عالمی مہنگائی اور توانائی کی قیمتوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت جاری رہتی ہے اور خام تیل کی قیمتیں قابو میں رہتی ہیں تو بھارتی بازار کو مزید سہارا مل سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی نئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی یا تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے مارکیٹ پر دباؤ بھی آ سکتا ہے۔
مجموعی طور پر پیر کے روز بھارتی اسٹاک مارکیٹ نے مثبت آغاز کیا۔ سینسیکس اور نفٹی کی بڑھت، روپیہ کی مضبوطی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد نے یہ اشارہ دیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود بھارتی معیشت اور مالیاتی منڈیاں فی الحال استحکام کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔