جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کے حالیہ بیان کواوپن وائلنس کی تبلیغ، نفرت انگیزی اور آئینی اقدار پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔
کھلی فاشزم اور اجتماعی سزا دینےکی سوچ
مولانا مدنی نے کہا کہ ایک مخصوص برادری کو ہراساں کرنا، حق رائے دہی چھیننے کی دھمکی دینا اور معاشی استحصال پر اکسانا،کھلی فاشزم اور اجتماعی سزا دینےکی سوچ کا مظہر ہے جس کی کسی بھی مہذب، جمہوری اور آئینی ریاست میں گنجائش نہیں ہوسکتی۔
بیان کو نظرانداز کرنا خود جمہوریت سے غداری
مولانا مدنی نے زورد یا کہ ایسے بیانات کو محض سیاسی بیان بازی اور الیکشنی موقع پرستی سمجھ کر نظرانداز کرنا خود جمہوریت سے غداری ہوگی۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ ان بیانات پر فوری ایف آئی آر درج ہو، اور یہ پیغام دیا جائے کہ بھارت میں کوئی بھی شخص نفرت پھیلانے کے لیے قانون سے بالاتر نہیں اور نہ ہی کوئی منصب نفرت پھیلانے کا لائسنس بن سکتا۔
طاقت کا غلط استعما ل
جمعیۃ علماء ہند نے کہا کہ کسی ریاست کا وزیر اعلیٰ اگر خود یہ اعلان کرے کہ وہ ایس آئی آر کو ایک برادری کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کررہاہے، لوگوں کو جھوٹی شکایات، بے بنیاد اعتراضات اور جان بوجھ کر ہراسانی پر اکسا رہا ہے، تو یہ ریاستی طاقت کا غلط استعما ل ہے بلکہ کسی بھی کمیونٹی کے خلاف لوگوں کو اوپن وائلنس پر آمادہ کرنا ہے۔ اس سے پورا جمہوری نظام مشکوک ہو جاتا ہے۔
تمام آئینی اداروں سے مطالبہ
مولانا مدنی نے واضح کیا کہ جمعیۃ علماء ہند اس معاملے کو محض ایک ریاستی مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کی جمہوری صحت سے جڑا ہوامسئلہ سمجھتی ہے۔ اگر آج ایک ریاست میں کسی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی اجازت دی گئی تو کل کوئی اور کمیونٹی اس کی شکار ہوگی ۔ مولانامدنی نے تمام آئینی اداروں، الیکشن کمیشن، عدلیہ اور سول سوسائٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنا آئینی کردار ادا کریں تا کہ نفرت کے دشمنوں کو اپنی منہ کی کھانی پڑے۔