افریقی ملک کانگو کے شہر روبیا میں ایک دردناک واقعہ پیش آیا ہے۔یہاں کولٹان کی کان دھنسنے سے 200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ درجنوں افراد اب بھی ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بدھ کو بارش کے موسم میں زمین نرم ہونے کی وجہ سے کان دھنس گیا۔اس دوران کان کنی میں مصروف 200 سے زائد افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔کئی دن گزرنے کے باوجود ہلاکتوں کی حتمی تعداد کا تعین نہیں ہو سکا ہے، جس کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اموات کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
مقامی گورنر کے ترجمان لوبمبا کمبیرے میویسا نے بتایا کہ 227 سے زیادہ افراد اس لینڈ سلائیڈ کے شکار ہوئے، جن میں مزدور، بچے اور خواتین شامل ہیں جو بازار میں سبزیاں اور پھل بیچ رہے تھے۔کچھ افراد کو بچایا گیا ہے ،جو کہ ابھی زیر علاج ہیں۔
لاشوں کی بازیابی کا عمل تاحال جاری :
مویسا کے مطابق جب لوگ کان میں کام کر رہے تھے تو اچانک زمین دب گئی اور وہ موت کے حوالے ہو گئے ۔ حکام کے مطابق کچھ لاشیں نکال لی گئی ہیں اور سرچ آپریشن جاری ہے۔اموات کی درست تعداد ابھی تک واضح نہیں ہو سکی کیونکہ ریسکیو آپریشن جاری ہیں اور لاشوں کی بازیابی کا عمل چل رہا ہے۔
یہ کان دنیا کی تقریباً 15 فیصد کولٹان پیدا کرتی ہے :
خیال رہے کہ روبیا کی یہ کان دنیا کی تقریباً 15 فیصد کولٹان پیدا کرتی ہے جو ٹین ٹیلم میں تبدیل ہو کر موبائل فونز، کمپیوٹرز، ایئر کرافٹ کے پرزوں اور گیس ٹربائنز میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ تقریباً ہر جدید ڈیوائس میں استعمال ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگ پیٹنس کے لیے مائن کولٹان میں اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں۔
اس وقت یہ علاقہ باغی گروپ کے کنٹرول میں ہے:
اس وقت یہ علاقہ باغی گروپ کے کنٹرول میں ہے۔2024 سے ایم 23 گروپ کا اس علاقہ پر قبضہ ہے۔جو اس علاقے کی معدنی دولت لوٹ کر اپنی بغاوت کی مالی معاونت کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، اس گروپ کو پڑوسی ملک روانڈا کی حمایت حاصل ہے، جسے روانڈا مسترد کرتا ہے۔ بغاوت پسند گروپ کا دعویٰ ہے کہ وہ کنشاسا کی حکومت کا تختہ الٹ کر کانگو کے ٹٹسی اقلیت کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ سال انہوں نے کئی معدنی علاقوں پر قبضہ کیا تھا۔