Saturday, January 31, 2026 | 12, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • کے جی ایم لکھنؤ: تاریخی درگاہوں پرکاروائی آئین اوروقف قانون پرحملہ: ایم وائی او

کے جی ایم لکھنؤ: تاریخی درگاہوں پرکاروائی آئین اوروقف قانون پرحملہ: ایم وائی او

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 30, 2026 IST

 کے جی ایم لکھنؤ: تاریخی درگاہوں پرکاروائی آئین اوروقف قانون پرحملہ: ایم وائی او
مسلم یوتھ آرگنائزیشن آف انڈیا (MYO) نے کنگ جارج میڈیکل کالج (KGMU)، لکھنؤ کے احاطے سے متصل صدیوں پرانی درگاہوں اور مزارات کے خلاف انتظامیہ کی جانب سے کی جا رہی مبینہ یکطرفہ اور غیر قانونی کاروائیوں پر شدید تشویش اور سخت اعتراض کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے اسے نہ صرف مذہبی آزادی بلکہ ہندوستانی آئین اور وقف قانون پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔

 قانون کی صریح خلاف ورزی

MYO کے مطابق حالیہ دنوں میں آستانۂ حضرت حاجی ہرمن شاہ میں توڑ پھوڑ کی گئی، جبکہ اب حضرت مخدوم شاہ مینا کے احاطے میں واقع پانچ سو سال سے زائد قدیم مزارات کو منہدم کرنے کے لیے نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جو مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے ساتھ ساتھ قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

تاریخی حقائق کو نظرانداز کرنے کا الزام

مسلم یوتھ آرگنائزیشن آف انڈیا کے شریک کنوینر ڈاکٹر شجاعت علی قادری نے ایک پریس بیان میں کہا کہ یہ درگاہیں اور مزارات کسی حالیہ دور کی تعمیر نہیں بلکہ ان کا تاریخی وجود سات سو سال سے بھی زیادہ پرانا ہے، جبکہ کنگ جارج میڈیکل کالج کی بنیاد 1912 میں رکھی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ درگاہوں کو کالج کی زمین پر “غیر قانونی تعمیر” قرار دینا سراسر گمراہ کن اور نفرت انگیز پروپیگنڈا ہے۔

وقف اراضی اور قانونی حیثیت

ڈاکٹر شجاعت علی قادری نے واضح کیا کہ متعلقہ زمین وقف ایکٹ 1995 کے تحت باقاعدہ وقف جائیداد ہے اور سنی وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے۔ قانون کے مطابق وقف املاک سے متعلق کسی بھی قسم کے تنازع یا کارروائی کا اختیار صرف مجاز عدالت کو حاصل ہے۔ کسی تعلیمی ادارے یا اس کے حکام کو نہ تو دھمکی آمیز نوٹس جاری کرنے کا اختیار ہے اور نہ ہی بلاعدالتی کاروائی کرنے کا۔

قابلِ مذمت غیر قانونی عمل 

انہوں نے 26 اپریل 2025 کو بغیر کسی عدالتی حکم کے آستانۂ حضرت حاجی ہرمن شاہ کی حدود میں وضوخانہ، عبادت گاہ اور زائرین کی سہولیات کو منہدم کیے جانے کو ایک سنگین اور قابلِ مذمت غیر قانونی عمل قرار دیا۔

خطرناک رجحان اور آئینی اقدار

MYO نے اس پورے معاملے کو ایک خطرناک رجحان سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی مسلم مذہبی مقامات کو جھوٹے بیانیے کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو اقلیتوں کے مذہبی حقوق کے ساتھ ساتھ آئینِ ہند کی روح کے بھی منافی ہے، جو تمام شہریوں کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔

مطالبات

مسلم یوتھ آرگنائزیشن آف انڈیا نے متعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ:

تمام انہدامی نوٹس فوری طور پر واپس لیے جائیں۔
منہدم کیے گئے مذہبی ڈھانچوں کی فوری بحالی کو یقینی بنایا جائے۔
آئندہ کسی بھی کارروائی سے قبل عدالتی اجازت کو لازمی قرار دیا جائے۔
 
تنظیم نے وقف بورڈ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ خاموش تماشائی نہ بنے بلکہ وقف املاک، قدیم درگاہوں اور مزارات کے تحفظ کے لیے فعال قانونی کردار ادا کرے۔

قانونی جدوجہد جاری رہےگی

ڈاکٹر شجاعت علی قادری نے آخر میں کہا کہ مسلم یوتھ آرگنائزیشن آف انڈیا آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر اس کوشش کے خلاف جمہوری اور قانونی جدوجہد جاری رکھے گی، جو مذہبی مقامات، تاریخی ورثے اور اقلیتی حقوق کو کمزور کرنے کے مترادف ہو۔