عام آدمی پارٹی لیڈر اور دہلی کی سا بق چیف منسٹر آتشی نے مرکزی حکومت اور وزیراعظم کو نشانہ بنایا۔ آتشی نے کہاکہ بی جے پی نے اپنے فائدے کیلئے عام آدمی پارٹی قائدین کو جھوٹے کیسوں میں پھنساکر جیل میں ڈال دیا۔ انہوں نے کہاکہ عدالت کے فیصلہ نے ثابت کردیا ہے کہ بی جے پی نے عام آدمی پارٹی۔ اس کے کنوینر اروند کیجریوال اور دوسرے لیڈروں کے خلاف جھوٹے کیس بنائے تھے۔ آتشی نے کہاکہ بی جے پی کی اس سازش کی وجہ سے عام آدمی پارٹی کے ساتھ ساتھ دہلی کی عوام کو بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اروند کیجریوال ایمانداری آج پورے ملک کے سامنے ہے۔ ایک طرف بی جے پی کی سازش، اقتدار کی بھوک اور مرکزی ایجنسیوں کا غلط استعمال ہے۔ دوسری طرف اروند کیجریوال اور عام آدمی پارٹی کی ایمانداری ہے۔ یہ پیش رفت راؤز ایونیو کورٹ کی جانب سے 27 فروری کو دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال، منش سسودیا اور 21 دیگر افراد کو دہلی ایکسائز پالیسی کے ہائی پروفائل مقدمے میں بری کیے جانے کے بعد سامنے آئی۔
عدالت کی جانب سے فردِ جرم عائد کرنے سے انکار کے فیصلے کو عام آدمی پارٹی (آپ) نے اپنی قیادت کی دیانت داری کی مکمل توثیق قرار دیتے ہوئے سراہا ہے۔ خصوصی جج جتیندر سنگھ کی جانب سے جاری کیے گئے 600 صفحات پر مشتمل حکم نامے میں سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے مؤقف پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ کیجریوال کے مبینہ "مرکزی سازشی کردار" کو کسی بھی ٹھوس ثبوت سے ثابت نہیں کیا جا سکا۔ جج نے تفتیش کو ایک "پہلے سے طے شدہ اور منظم عمل" قرار دیا، جس میں ایک مخصوص بیانیے کے مطابق کردار بعد ازاں تفویض کیے گئے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ الزامات "عدالتی جانچ میں ناکام" رہے اور منیش سسودیا کی جانب سے کسی مجرمانہ نیت کا ثبوت نہیں ملا۔
فیصلے کے بعد جذباتی ہو کر اروند کیجریوال نے بی جے پی کو دہلی میں نئے انتخابات کرانے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا، اگر بی جے پی 10 سے زیادہ نشستیں جیت لے تو میں سیاست چھوڑ دوں گا۔ 17 ماہ جیل میں گزارنے کے بعد رہا ہونے والے منیش سسودیا نے اسے ایک تاریخی دن قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت گرانے کی سازش کو عدلیہ نے ناکام بنا دیا ہے۔