بہار کے بھوجپور ضلع میں بھرت بھوشن تیواری کی مبینہ پولیس انکاؤنٹر میں موت کا معاملہ مسلسل سرخیوں میں ہے۔ اب اس معاملے پر معروف گلوکار اور بی جے پی رہنما پون سنگھ کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سچائی سامنے لانے کے لیے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں پون سنگھ نے کہا کہ بھرت بھوشن تیواری سماجی خدمات سے وابستہ ایک حساس انسان تھے، جو غریبوں، محروم طبقات اور قدرتی آفات سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے ہمیشہ آگے رہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔
پون سنگھ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان میں موجود دعوے درست ہیں تو پورے واقعے کی غیر جانبدارانہ جانچ انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق جمہوریت میں ہر شہری کو منصفانہ قانونی عمل اور انصاف کا حق حاصل ہے۔
واضح رہے کہ 17 جون کو بھوجپور ضلع کے شاہ پور تھانہ علاقے کے بلوٹی گاؤں میں پولیس کارروائی کے دوران بھرت بھوشن تیواری کی موت ہو گئی تھی۔ واقعے سے قبل وہ فیس بک پر لائیو تھے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ہتھیار پھینک کر خود سپردگی کر دی تھی، اس کے باوجود ان پر گولی چلائی گئی۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ بھرت بھوشن تیواری کے پاس ہتھیار موجود تھا اور انہوں نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کی کوشش کی، جس کے جواب میں کارروائی کی گئی۔ پولیس کے مطابق انہیں ٹانگ میں گولی لگی تھی اور بعد میں علاج کے دوران ان کی موت ہو گئی۔
معاملے میں اس وقت مزید سوالات پیدا ہوئے جب بھرت تیواری کی موت سے چند دن قبل کی ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں انہوں نے اپنی موت کی صورت میں اپنے موبائل فون کو صرف والدین کے حوالے کرنے کی بات کہی تھی اور اس میں حساس معلومات موجود ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔
ادھر، پولیس نے بھرت کے اہلِ خانہ کے خلاف سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دیگر الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جس کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
پون سنگھ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی بھرت بھوشن تیواری کے اہلِ خانہ سے ملاقات کریں گے۔ اس کیس میں مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے اعلیٰ سطحی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔