مدھیہ پردیش کے ضلع بھنڈ میں بی جے پی کسان مورچہ کے ایک نئے مقرر کردہ ضلعی صدر کو طاقت کا مظاہرہ کرنا مہنگا پڑ گیا۔ تقرری کے صرف چند گھنٹوں کے اندر ہی پارٹی نے سخت کارروائی کرتے ہوئے ان کی تقرری منسوخ کر دی۔ اس واقعے کو مدھیہ پردیش بی جے پی کی جانب سے تنظیمی نظم و ضبط پر “زیرو ٹالرینس” پالیسی کی واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، کسان مورچہ کے نو مقرر ضلع صدر سجن سنگھ یادو نے بھنڈ پہنچنے پر سینکڑوں گاڑیوں پر مشتمل ایک بڑے قافلے کے ساتھ اپنی طاقت دکھانے کی کوشش کی۔ تاہم، یہ مظاہرہ پارٹی قیادت کو سخت ناگوار گزرا اور ان کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔
یہ فیصلہ بی جے پی کے ریاستی صدر کی جانب سے لیا گیا، جسے پارٹی کے اندر ایک سخت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پارٹی قیادت کا ماننا ہے کہ موجودہ عالمی حالات، خصوصا اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث خام تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، ایسے وقت میں ایندھن کے غیر ضروری استعمال کا مظاہرہ ناقابل قبول ہے۔
وزیر اعظم مودی پہلے ہی عوام سے ڈیزل اور پٹرول کے کم استعمال کی اپیل کر چکے ہیں، لیکن بھنڈ میں ہونے والے اس قافلے نے ان اپیلوں کو نظر انداز کرنے کا تاثر دیا۔ جیسے ہی قافلے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، عوامی سطح پر شدید تنقید شروع ہو گئی۔ لوگوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایندھن کی بچت کے اصول صرف عام شہریوں کے لیے ہیں؟ کیا سیاسی رہنما وزیر اعظم کی ہدایات پر عمل نہیں کرتے؟
اس واقعے نے اپوزیشن کو بھی حکومت اور بی جے پی پر حملہ کرنے کا موقع فراہم کیا، جبکہ عوامی ناراضی میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے بی جے پی تنظیم نے فوری “ڈیمیج کنٹرول” کرتے ہوئے سجن سنگھ یادو کو عہدے سے ہٹانے کا حکم جاری کیا۔ پارٹی کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ 13 مئی کو کسان مورچہ کی ریلی کے دوران سینکڑوں گاڑیوں پر مشتمل قافلہ گوالیار سے بھنڈ تک لایا گیا، جو وزیر اعظم کی توانائی بچاؤ مہم اور اپیل کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
پارٹی بیان میں مزید کہا گیا کہ تنظیم ایسے رویے کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی، اسی لیے سجن سنگھ یادو کی تقرری فوری طور پر منسوخ کی جاتی ہے۔
اب سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ کیا بھنڈ میں کی گئی یہ کارروائی مدھیہ پردیش کے دیگر اضلاع کے لیے بھی ایک مثال بنے گی؟ اور کیا مستقبل میں اسی طرح کے طاقت کے مظاہروں کے خلاف بھی سخت کارروائیاں کی جائیں گی؟
بی جے پی کی اس کارروائی سے ایک واضح پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ پارٹی کے اندر خدمت اور نظم و ضبط کو ترجیح دی جائے گی، نہ کہ طاقت کے ظاہری مظاہرے کو۔