Wednesday, May 20, 2026 | 02 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • ریونت ریڈی بی جے پی میں شامل ہوسکتے ہیں، دھرمپوری اروند کے بیان سے تلنگانہ سیاست میں ہلچل

ریونت ریڈی بی جے پی میں شامل ہوسکتے ہیں، دھرمپوری اروند کے بیان سے تلنگانہ سیاست میں ہلچل

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: May 19, 2026 IST

ریونت ریڈی بی جے پی میں شامل ہوسکتے ہیں، دھرمپوری اروند کے بیان سے تلنگانہ سیاست میں ہلچل
تلنگانہ کی سیاست میں اس وقت نئی بحث چھڑ گئی ہے جب بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ دھرمپوری اروند نے دعویٰ کیا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی مستقبل میں کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوسکتے ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد ریاست کی سیاسی فضا مزید گرم ہوگئی ہے اور مختلف حلقوں میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔
 
دھرمپوری اروند نے کہا کہ کانگریس قیادت نے ریونت ریڈی کو چیف منسٹر بنا کر ایک بڑی سیاسی غلطی کی ہے کیونکہ پارٹی کے کئی سینئر اور دیرینہ قائدین کو نظر انداز کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے کانگریس کے اندر ناراضگی بڑھ رہی ہے۔
 
بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے مغربی بنگال کے سینئر لیڈر سویندو ادھیکاری کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح انہوں نے ترنمول کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں ممتا بنرجی کے بڑے سیاسی حریف بن گئے، اسی طرح تلنگانہ میں بھی کوئی بڑا سیاسی بدلاؤ سامنے آسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اندرونی معاملات کی مکمل معلومات نہیں ہیں، لیکن حالات سے لگتا ہے کہ پس پردہ کچھ بڑی سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔
 
دھرمپوری اروند نے آئندہ اسمبلی انتخابات کے حوالے سے بھی بڑا دعویٰ کیا۔ انہوں نے پیشین گوئی کی کہ 2028-29 کے انتخابات میں کانگریس کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریونت ریڈی کی قیادت میں کانگریس تباہ کن انتخابی نتائج کی طرف بڑھ رہی ہے۔
 
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں حیدرآباد میں ایک تقریب کے دوران ریونت ریڈی کی موجودگی میں دلچسپ تبصرہ کیا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا تھا، “آپ اس منزل تک نہیں پہنچ پائیں گے جہاں پہنچنا چاہتے ہیں، بہتر ہوگا کہ آپ صرف مجھ سے ہاتھ ملا لیں۔” اس تبصرے کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف اندازے لگائے جا رہے ہیں جبکہ تقریب کے دوران ریونت ریڈی کو مسکراتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
 
دھرمپوری اروند نے مزید کہا کہ آئندہ دو برس تلنگانہ میں ہائی وولٹیج سیاست دیکھنے کو ملے گی اور بی جے پی ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کی سمت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ان کے اس بیان پر کانگریس اور چیف منسٹر ریونت ریڈی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آسکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر ریاست کی سیاست پہلے ہی کافی گرم ہو چکی ہے۔