Tuesday, May 19, 2026 | 01 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • دہلی فسادات کیس: عمرخالد کوعبوری ضمانت دینےسےعدالت کا انکار

دہلی فسادات کیس: عمرخالد کوعبوری ضمانت دینےسےعدالت کا انکار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: May 19, 2026 IST

دہلی فسادات کیس: عمرخالد کوعبوری ضمانت دینےسےعدالت کا انکار
 دہلی کی  عدالت نے 2020 دہلی فسادات سے متعلق بڑی سازش کیس میں گرفتار کارکن اور سابق جے این یو طلبہ لیڈر عمر خالد کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔
 
ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپائی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عمر خالد کی جانب سے عبوری رہائی کے لیے دی گئی وجوہات “معقول” نہیں ہیں۔ عمر خالد نے 15 دن کی عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی تاکہ وہ اپنے چچا کے چہلم میں شرکت کر سکیں اور اپنی والدہ کی دیکھ بھال کر سکیں، جن کی جلد سرجری ہونے والی ہے۔
 
عمر خالد نے اپنے چچا کی وفات کے بعد 2 جون کو چہلم اور اس کی سرجری سے پہلے اور بعد میں والدہ کے ساتھ رہنے کے لیے 15 دن کی عبوری ضمانت مانگی تھی۔عدالت نے کہا کہ عمر خالد کو اس سے قبل بھی عبوری ضمانت مل چکی تھی اور اس دوران انہوں نے ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی نہیں کی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے ہر بار عبوری ضمانت دی جائے۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ چچا کے چہلم میں شرکت ضروری نہیں ہے۔ عدالت کے مطابق اگر مرحوم سے قریبی رشتہ ہوتا تو درخواست موت کے فوراً بعد دائر کی جاتی، نہ کہ اتنے عرصے بعد۔
 
سماعت کے دوران عمر خالد کے وکیل ساحل گھئی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے71 سالہ والد اپنی بیمار اہلیہ کی دیکھ بھال کرنے سے قاصر ہیں۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میڈیکل ٹیسٹ کے بعد عمر خالد کی والدہ کو جسم میں موجود گلٹی نکالنے کے لیے سرجری کا مشورہ دیا گیا ہے۔تاہم عدالت نے کہا کہ عمر خالد کی بہنیں اور والد ان کی والدہ کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ سرجری معمولی نوعیت کی ہے اور اس کے لیے عمر خالد کی موجودگی ضروری نہیں۔
 
ادھر سپریم کورٹ نے ایک روز قبل عمرخالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کرنے کے سابقہ فیصلے پر “سنگین تحفظات” کا اظہار کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ طویل قید اور مقدمے میں تاخیر جیسے معاملات میں یو اے پی اے اور پی ایم ایل اے جیسے قوانین کے تحت بھی ضمانت پر غور کیا جانا چاہیے۔
 
 واضح رہے کہ اس سے قبل 11 دسمبر 2025 کو عدالت نے عمر خالد کو  قریبی رشتہ داروں کی  شادی میں شرکت کے لیے عبوری ضمانت دی تھی۔ اس سے قبل 5 جنوری کو سپریم کورٹ نے خالد کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ اس کے بعد 20 اپریل کو خالد کی درخواست ضمانت مسترد کرنے کے حکم کو چیلنج کرنے والی نظرثانی کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔
 
عمر خالد کو 13 ستمبر 2020 کو دہلی پولیس کے خصوصی سیل نے 2020 کے دہلی فسادات کے پیچھے مبینہ بڑی سازش کے سلسلے میں غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ کے تحت گرفتار کیا تھا، تب سے وہ حراست میں ہے۔ دہلی فسادات میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔