ہندوستان کی میزبانی میں جاری 18ویں 'BRICS Summit' آج دوسرے روز میں داخل ہوگئی ہے۔ دوسرے روز ہونے والی مشترکہ نشست میں 'BRICS' ممالک کے رہنما لچک، جدت، تعاون اور پائیداری سمیت اہم ترجیحات پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔
نئی دہلی اعلامیہ میں بھی ان چار موضوعات کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ یہ چاروں ستون اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ابھرتی ہوئی معیشتیں بدلتی ہوئی عالمی معاشی اور سیاسی صورتحال میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے کن شعبوں پر توجہ دینا چاہتی ہیں۔ چار ستونوں میں معاشی مشکلات سے نمٹنے، نئی ٹیکنالوجی اور مہارتوں کو فروغ دینے، ترقی پذیر ممالک کی عالمی اداروں میں آواز مضبوط کرنے اور اقتصادی ترقی کے ساتھ ماحولیاتی اہداف کو پورا کرنے جیسے معاملات شامل ہیں۔
لچک: معاشی مشکلات سے نمٹنے پر توجہ
برکس کے پہلے ستون یعنی لچک کا مقصد ابھرتی ہوئی معیشتوں کو عالمی سطح پر آنے والے معاشی جھٹکوں سے زیادہ محفوظ بنانا ہے۔ اس کے لیے سپلائی چین کو مضبوط بنانے، مقامی کرنسیوں کے استعمال کو بڑھانے اور تجارت و مالیات کے لیے مختلف راستے اختیار کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ عالمی تجارت یا مالیاتی نظام میں کسی رکاوٹ کی صورت میں برکس ممالک پر اس کے اثرات کم ہوں۔ یہ کوشش ابھرتی ہوئی معیشتوں کو بیرونی معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لیے زیادہ مواقع اور متبادل فراہم کرنے کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے۔
جدت: نئی ٹیکنالوجی اور مہارتوں کو فروغ دینا
دوسرا ستون جدت ہے۔ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل نظام، اہم ٹیکنالوجیز اور جدید مہارتیں کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی مجموعی طاقت کے لیے بھی اہم بن چکی ہیں۔ برکس ممالک کے درمیان تعاون کا مقصد ان شعبوں میں تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہے۔ ہندوستان کا ڈیجیٹل نظام اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ہندوستان اپنی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور آن لائن نظام کے تجربات دوسرے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ بھی شیئر کر رہا ہے۔
اس لیے جدت کا مطلب صرف نئی ٹیکنالوجی تیار کرنا نہیں بلکہ ایسی مہارتیں اور صلاحیتیں پیدا کرنا بھی ہے جن کی مدد سے ابھرتی ہوئی معیشتیں ٹیکنالوجی پر مبنی عالمی معیشت میں بہتر طور پر مقابلہ کر سکیں۔
تعاون: گلوبل ساؤتھ کی آواز مضبوط کرنا
تیسرا ستون تعاون ہے۔ برکس کی رکنیت میں توسیع کے بعد اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ اب اس گروپ میں زیادہ تعداد میں ابھرتی اور ترقی پذیر معیشتیں شامل ہیں۔ تعاون کے ذریعے یہ ممالک عالمی اداروں میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے اور اپنے مشترکہ مفادات کو بہتر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ کئی ترقی پذیر ممالک طویل عرصے سے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ عالمی ادارے موجودہ معاشی اور سیاسی صورتحال کی مکمل نمائندگی نہیں کرتے۔ برکس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کو عالمی معاملات میں اپنی بات زیادہ مضبوطی سے رکھنے کے لیے ایک بہتر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔
پائیداری: ترقی کے ساتھ ماحول کا تحفظ
چوتھا ستون پائیداری ہے۔ اس کا تعلق اقتصادی ترقی اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی کوششوں کے درمیان توازن قائم کرنے سے ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے ماحول دوست معیشت کی طرف منتقلی آسان نہیں ہے۔ اس کے لیے مالی وسائل، جدید ٹیکنالوجی اور مناسب منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف ممالک کی معاشی ترقی کی سطح بھی ایک جیسی نہیں ہے، اس لیے انہیں ماحولیاتی پالیسیوں پر عمل درآمد کے دوران مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ برکس کا پائیداری کا ستون اس بات پر زور دیتا ہے کہ موسمیاتی اور ماحولیاتی اہداف حاصل کرتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کی معاشی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
چاروں ستون کیا اشارہ کرتے ہیں؟
نئی دہلی اعلامیہ کے یہ چار ستون برکس کی وسیع تر ترجیحات کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ لچک کا مقصد معاشی کمزوریوں کو کم کرنا، جدت کے ذریعے ٹیکنالوجی اور مہارتوں کو مضبوط کرنا، تعاون کے ذریعے گلوبل ساؤتھ کی آواز کو بہتر بنانا اور پائیداری کے ذریعے اقتصادی ترقی کو ماحولیاتی اہداف کے ساتھ جوڑنا ہے۔ یہ چاروں موضوعات اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ برکس ممالک مالیات، تجارت، ٹیکنالوجی اور سفارت کاری سمیت مختلف شعبوں میں اپنی خودمختاری اور صلاحیت بڑھانا چاہتے ہیں۔
اس کا یہ مطلب ضروری نہیں کہ برکس موجودہ عالمی نظام سے الگ کوئی نیا عالمی نظام بنانا چاہتا ہے۔ اس کے بجائے برکس عالمی نظام میں بدلتی ہوئی صورتحال کے درمیان اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور اپنے مفادات کے لیے زیادہ مواقع حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نئی دہلی اعلامیہ کے چار ستون اسی بات کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ برکس کی ابھرتی ہوئی معیشتیں بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کا مقابلہ کس طرح کرنا چاہتی ہیں اور عالمی اداروں اور نظام میں اپنے کردار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کن شعبوں پر توجہ دے رہی ہیں۔