Friday, February 13, 2026 | 25, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • بنگلہ دیش :شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات میں کیا ہے خاص؟

بنگلہ دیش :شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات میں کیا ہے خاص؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Feb 12, 2026 IST

بنگلہ دیش :شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والے پہلے  انتخابات میں کیا ہے خاص؟
بنگلہ دیش میں جمعرات کو 13ویں پارلیمانی انتخابات کے لیے سخت سکیورٹی کے درمیان ووٹنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے اقتدار سے بے دخلی (تختہ پلٹ) کے بعد یہ ملک کے پہلے عام انتخابات ہیں۔ آزادی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بڑی سیاسی جماعت 'عوامی لیگ' ان انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی، کیونکہ اس پر الیکشن لڑنے کی پابندی عائد ہے۔اس بار اصل مقابلہ بیگم خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) اور جماعت اسلامی کے درمیان ہے۔
 
 انتخابی اعداد و شمار اور ووٹرز:
 
 بتا دیں کہ کل  350 نشستیں  ہیں ،جن میں سے 50 خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔آج 299 نشستوں پر ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ملک میں کل 12.7 کروڑ ووٹرز ہیں، جن میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ اقلیتی ہندو ووٹرز شامل ہیں۔50 جماعتیں میدان میں ہیں اور کل 2,028 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں ،جن میں 273 آزاد اور 83 خواتین امیدوار ہیں۔ملک بھر میں 42,761 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں، جن میں سے 21,506 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔
 
 10 لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات:
 
ووٹنگ صبح 7:30 بجے شروع ہوئی جو شام 4:30 بجے تک جاری رہے گی۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 10 لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں، جن میں:ایک لاکھ فوجی اہلکار، بحریہ، فضائیہ اور بارڈر گارڈز۔تقریباً 1.87 لاکھ پولیس اہلکار اور ریپڈ ایکشن بٹالین کے جوان۔غیر ملکی مبصرین کی بڑی تعداد (335) بھی انتخابات کی نگرانی کر رہی ہے۔
 
انتخابات کے ساتھ ساتھ آج بنگلہ دیشی عوام ایک قومی ریفرنڈم میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔ ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنز پر ایک علیحدہ پرچہ دیا جا رہا ہے تاکہ وہ جولائی میں منظور شدہ 'قومی چارٹر' پر اپنی رائے دے سکیں۔ اس ریفرنڈم کے نتائج سے ملک کے مستقبل کے حکومتی ڈھانچے کا تعین ہوگا۔
 
 اہم سیاسی حریف:
 
خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے طارق رحمان قیادت کر رہے ہیں۔ پارٹی نے 292 امیدوار اتارے ہیں۔شفیق الرحمن کی قیادت میں 225 امیدوار میدان میں ہیں۔طلبہ لیڈر ناہید اسلام کی نئی جماعت نے 32 امیدوار کھڑے کیے ہیں۔
 
 دھاندلی کے الزامات:
 
الیکشن شروع ہوتے ہی BNP اور عوامی لیگ دونوں نے ایک دوسرے پر اور انتظامیہ پر دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں۔BNP کا دعویٰ ہے کہ ڈھاکہ کے کچھ مراکز پر ووٹرز کی موجودگی کے بغیر ہی بیلٹ پیپرز پر مہریں لگائی جا رہی ہیں۔عوامی لیگ نے سوشل میڈیا (X) پر اسے "جمہوریت کا قتل" اور "اقتدار پر قبضہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ رات کے اندھیرے میں ووٹنگ کرائی جا رہی ہے۔