بہار کے بھوجپور ضلع میں بھرت بھوشن تیواری انکاؤنٹر کیس نے ایک نیا موڑ اختیار کر لیا ہے۔ بھرت تیواری کی والدہ آشا دیوی کی شکایت پر پانچ پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ اس بات کی تصدیق بھوجپور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) راج نے 23 جون 2026 کو کی۔
اطلاعات کے مطابق واقعے کے بعد شاہ پور تھانے میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی گئی تھی، جس پر کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس معاملے میں اب تک پانچ پولیس اہلکاروں کو معطل بھی کیا جا چکا ہے، جن میں اُس وقت کے شاہ پور تھانہ انچارج راجیش کمار، سب انسپکٹر انکت، سب انسپکٹر ہریش چندر کمار، اسسٹنٹ سب انسپکٹر راماشنکر یادو اور کانسٹیبل میرا کماری شامل ہیں۔
آشا دیوی نے اپنی شکایت میں الزام لگایا ہے کہ ان کے بیٹے بھرت بھوشن تیواری سیلاب متاثرین کے مسائل کو لے کر انتظامیہ کے خلاف سرگرم تھے۔ شکایت کے مطابق واقعے کے روز متعدد پولیس اہلکار ان کے گھر پہنچے اور بھرت تیواری کو اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہا۔
والدہ کا دعویٰ ہے کہ بھرت تیواری نے پولیس کے سامنے فیس بک لائیو کے دوران اپنا ہتھیار پھینک کر خود سپردگی کر دی تھی، لیکن اس کے باوجود پولیس اہلکاروں نے انہیں زمین پر گرا کر گولیاں ماریں۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ انہیں پانچ گولیاں لگیں اور یہ کارروائی مبینہ طور پر جگدیش پور کے ڈی ایس پی کے حکم پر کی گئی۔
آشا دیوی نے مزید الزام لگایا کہ واقعے کے بعد پولیس بھرت تیواری کو اپنے ساتھ لے گئی اور کئی گھنٹوں تک اہل خانہ کو درست معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ بعد میں شام کے وقت خاندان کو ان کی موت کی اطلاع دی گئی۔
واضح رہے کہ 17 جون کو بھوجپور ضلع کے شاہ پور تھانہ علاقے کے بلوٹی گاؤں میں پولیس کارروائی کے دوران بھرت بھوشن تیواری کی موت ہو گئی تھی۔ واقعے سے قبل ان کی فیس بک لائیو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں اہل خانہ کے مطابق وہ خود سپردگی کرتے دکھائی دے رہے تھے۔
دوسری جانب پولیس کا الزام ہے کے بھرت بھوشن تیواری نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کی کوشش کی، جس کے جواب میں کارروائی کی گئی۔ پولیس کے مطابق انہیں ٹانگ میں گولی لگی تھی اور بعد میں علاج کے دوران ان کا انتقال ہو گیا۔
معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب بھرت تیواری کی موت سے چند روز قبل کی ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں انہوں نے اپنی موت کی صورت میں اپنے موبائل فون کو صرف والدین کے حوالے کرنے اور اس میں حساس معلومات موجود ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔
ادھر پولیس نے بھرت تیواری کے اہل خانہ کے خلاف سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دیگر الزامات کے تحت مقدمہ بھی درج کیا ہے۔ اس تمام صورتحال کے بعد معاملے کی عدالتی اور انتظامی تحقیقات پر عوامی نظریں مرکوز ہیں۔