• News
  • »
  • قومی
  • »
  • !سماجی جہد کارانّا ہزار ے نے دی ایک اور بھوک ہڑتال کی دھمکی

!سماجی جہد کارانّا ہزار ے نے دی ایک اور بھوک ہڑتال کی دھمکی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jun 23, 2026 IST

!سماجی جہد کارانّا ہزار ے نے دی ایک اور بھوک ہڑتال کی دھمکی
معروف سماجی جہد کار انا ہزارے نے مہاراشٹر حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ریاست میں حقِ  اطلاعات  (آر ٹی آئی) کے قوانین میں کی گئی حالیہ ترامیم واپس نہ لی گئیں تو وہ 5 جولائی سے ضلع اہلیہ نگر کے گاؤں رالیگن سدھی میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔
وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو لکھے گئے خط میں انا ہزارے نے کہا کہ مہاراشٹر حقِ   اطلاعات  قوانین  2026 آر ٹی آئی قانون کی روح کے خلاف ہیں اور ان سے شہریوں کے معلومات حاصل کرنے کے حق کو نقصان پہنچے گا۔

یہ تنازعہ کیا ہے؟

مہاراشٹر حکومت نے 12 جون 2026 کو آر ٹی آئی قوانین میں بعض تبدیلیاں کی ہیں۔ انا ہزارے اور شفافیت کے حامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کے عمل کو زیادہ پیچیدہ بنایا جا رہا ہے، جس سے عام شہریوں کے لیے سرکاری معلومات تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ تبدیلیاں آر ٹی آئی ایکٹ 2005 کے بنیادی مقصد، یعنی حکومتی شفافیت اور جوابدہی، کو کمزور کرتی ہیں۔
 
انا ہزارے نے الزام لگایا کہ نئی ترامیم عوامی نگرانی کے حق کو محدود کر سکتی ہیں اور سرکاری محکموں میں شفافیت کم ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان قوانین کو فوری طور پر واپس لیا جائے تاکہ شہریوں کے معلومات حاصل کرنے کے حقوق محفوظ رہیں۔

اصل تبدیلیاں کیا ہیں؟

انا ہزارے اور آر ٹی آئی کارکنوں کے مطابق مہاراشٹر حکومت کے نئے آر ٹی آئی قواعد 2026 میں معلومات حاصل کرنے کے طریقۂ کار میں کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے تحت درخواستیں جمع کرانے، اپیل دائر کرنے اور سماعت کے عمل سے متعلق بعض نئے ضوابط شامل کیے گئے ہیں
 
یہ بھی الزام ہے کہ بعض معاملات میں درخواست گزار کو اضافی دستاویزات اور رسمی کاروائیاں پوری کرنا ہوں گی، جس سے عام شہریوں کے لیے سرکاری معلومات تک رسائی مشکل بن سکتی ہے۔ آر ٹی آئی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں آر ٹی آئی ایکٹ 2005 کے اس بنیادی مقصد کے خلاف ہیں جس کے تحت شہریوں کو آسان اور فوری طور پر معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔
 
تاہم مہاراشٹر حکومت کا مؤقف ہے کہ نئے قواعد کا مقصد آر ٹی آئی کے نظام کو زیادہ منظم اور مؤثر بنانا ہے، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ ان قواعد کی وجہ سے شفافیت اور جوابدہی متاثر ہو سکتی ہے۔