مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو ایک نئی سیاسی بحث کے مرکز میں آ گئے ہیں۔ ایک تحقیقی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دسمبر 2023 میں وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے موہن یادو کے خاندان اور ان سے وابستہ رئیل اسٹیٹ کمپنیوں نے اُجین اور اس کے اطراف میں کم از کم 137 پلاٹس خریدے جن کا مجموعی رقبہ 168 ایکڑ بنتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان زمینوں کی مجموعی مالیت تقریباً 45 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔
یہ معاملہ اس لیے مزید اہم ہو گیا ہے کیونکہ جن علاقوں میں زمینیں خریدی گئیں، وہاں اسی عرصے میں حکومت نے متعدد بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، نئی سڑکوں، رابطہ راستوں اور شہری توسیعی منصوبوں کا اعلان بھی کیا۔ اگر کسی عوامی عہدیدار کے خاندان کی زمینیں انہی علاقوں میں ہوں جہاں سرکاری منصوبے متعارف کروائے جا رہے ہوں تو مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق موہن یادو کی اہلیہ، قریبی رشتہ داروں اور خاندان سے وابستہ کاروباری اداروں نے مختلف اوقات میں زمینیں خریدیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ خود کم از کم 17 ایکڑ زمین کے مالک ہیں جبکہ ان کی اہلیہ کے نام پر بھی تقریباً 10.6 ایکڑ زمین موجود ہے۔ اس کے علاوہ خاندان کی ایک نجی کمپنی کے ذریعے بھی قابلِ ذکر اراضی خریدی گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خریدی گئی زمینوں میں سے ایک بڑی تعداد ایسے علاقوں میں واقع ہے جہاں حکومت نے مستقبل کے ترقیاتی منصوبے تجویز کیے ہیں۔ اُجین ماسٹر پلان 2035 کے تحت کئی زرعی علاقوں کو رہائشی یا تجارتی استعمال کے لیے تبدیل کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ ان علاقوں میں بھی موہن یادو خاندان کی زمینوں کی موجودگی نے بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق خاندان کی خریدی گئی 168 ایکڑ زمین میں سے تقریباً 111 ایکڑ نئی سڑکوں اور رابطہ منصوبوں کے قریب واقع ہے۔ ان میں اُجین-اندور اور اُجین-بادنگر کوریڈور کے اطراف موجود زمینیں بھی شامل ہیں۔ کئی پلاٹس اپریل 2024 کے بعد خریدے گئے، جب ان منصوبوں کی رفتار میں اضافہ دیکھا گیا۔
اسی دوران مدھیہ پردیش حکومت نے اُجین اور اندور کے درمیان تقریباً 2,935 کروڑ روپے لاگت کے ایک گرین فیلڈ کوریڈور منصوبے کا بھی آغاز کیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ خطے کی معاشی سرگرمیوں، سیاحت اور ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے کے لیے ناگزیر ہے۔ منصوبے کے لیے 28 دیہاتوں کے 916 کسانوں کو معاوضہ بھی دیا جا چکا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ زمینوں کی خریداری اور ترقیاتی منصوبوں کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے یا نہیں۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ اگر ضرورت ہو تو معاملے کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ عوام کے سامنے مکمل حقیقت آ سکے۔
دوسری جانب موہن یادو خاندان کے قریبی ذرائع اور بعض سرکاری حلقے ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خاندان کئی برسوں سے تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ ہے اور زمینوں کی خریداری کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے جوڑنا درست نہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ تمام خرید و فروخت قانونی طریقے سے ہوئی اور متعلقہ ریکارڈ سرکاری دستاویزات میں موجود ہے۔
یہ معاملہ اس وقت ریاستی سیاست کا ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔ ایک طرف حکومت اُجین کو جدید شہری مرکز میں تبدیل کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف وزیر اعلیٰ کے خاندان کی زمینوں سے متعلق انکشافات نے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ حکومت ان سوالات کا کیا جواب دیتی ہے اور کیا اس معاملے میں مزید تحقیقات یا وضاحت سامنے آتی ہے۔