اترپردیش کے دارالحکومت لکھنو کے علی گنج علاقے میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے سانحے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے۔ اس افسوسناک واقعے میں کم از کم 15 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہوئے۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ کئی افراد جان بچانے کے لیے عمارت کی بالائی منزلوں سے کودنے پر مجبور ہوگئے، جس کے نتیجے میں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
حادثے کے بعد اترپردیش حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چار سرکاری افسران کو معطل کر دیا ہے۔ معطل کیے جانے والے افسران میں بجلی، فائر سیفٹی اور دیگر متعلقہ محکموں کے اہلکار شامل ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی اور نگرانی میں کوتاہی کے شواہد سامنے آنے کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا۔
وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے رات گئے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا اور واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا۔ ان کی ہدایت پر ایک دو رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی گئی ہے جس میں محکمہ ثقافت کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری امرت ابھیجت اور لکھنو زون کے اے ڈی جی پراوین کمار شامل ہیں۔ اس ٹیم کو سات دن کے اندر اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پولیس نے علی گنج تھانے میں چھ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ اب تک چار ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ دو دیگر ملزمان دھیریندر شکلا اور سریندر شکلا کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
حادثے کے بعد پولیس نے عمارت کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے جبکہ فرانزک ماہرین اور فائر ڈپارٹمنٹ کی ٹیمیں شواہد جمع کر رہی ہیں۔ ابتدائی جانچ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ عمارت میں آگ سے بچاؤ کے مناسب انتظامات موجود نہیں تھے اور ایمرجنسی اخراج کے راستوں کی کمی نے جانی نقصان میں اضافہ کیا۔
تحقیقات کے دوران یہ پہلو بھی زیر غور ہے کہ آیا عمارت میں تمام ضروری اجازت نامے موجود تھے یا نہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق ماضی میں عمارت کے حوالے سے ضابطوں کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیے گئے تھے، جن کی تفصیلات اب دوبارہ کھنگالی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب جاں بحق افراد کی آخری رسومات کے لیے لکھنو کے گلہ گھاٹ پر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ سوگوار خاندانوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کے لیے ریاستی حکومت کے کئی اہم عہدیداروں کی شرکت متوقع ہے۔ حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کو امداد اور ممکنہ مالی معاونت فراہم کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
یہ سانحہ نہ صرف حفاظتی انتظامات کی خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ شہری علاقوں میں قائم کوچنگ سینٹروں، تجارتی عمارتوں اور عوامی مراکز کی نگرانی کے نظام پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ اب تمام نظریں ایس آئی ٹی کی رپورٹ پر مرکوز ہیں، جس سے یہ واضح ہوگا کہ اس سانحے کے اصل ذمہ دار کون ہیں اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور اگر مزید ذمہ دار افراد یا ادارے سامنے آئے تو ان کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس سانحے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد میں معمولی غفلت بھی بڑے انسانی المیے کا سبب بن سکتی ہے۔