سجن کمار کو 1984 کے سکھ مخالف فسادات کیس میں بڑی راحت ملی ہے۔ دہلی کی راؤس ایونیو کورٹ نے انہیں 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے متعلق جنک پوری اور وکاسپوری تشدد کیس میں بری کر دیا ہے۔ اس تشدد میں دو افراد کی موت ہوئی تھی۔اس معاملے میں ملزم سابق کانگریس لیڈر سجن کمار نے اپنے دفاع میں کہا تھا کہ وہ بے قصور ہیں اور اس میں کبھی ملوث نہیں تھے۔ اس نے عدالت میں یہ بھی کہا کہ وہ اپنے خواب میں بھی اس طرح کے فسادات میں بھی ایسے فسادات میں ملوث ہونے کا نہیں سوچ سکتے ۔اسکے علاوہ سججن کمار نے کہا کہ میرے خلاف ایک بھی ثبوت نہیں ہے۔
بتا دیں کہ طویل عرصے بعد آج راؤز ایونیو کورٹ نے سججن کمار کو راحت دی ہے۔ جب سابق کانگریس ایم پی سججن کمار کو کورٹ نے بتایا کہ انہیں 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے ایک کیس میں بری کر دیا گیا ہے تو سججن کمار نے دونوں ہاتھ جوڑ کر کورٹ کا شکریہ ادا کیا۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
فروری 2015 میں ایس آئی ٹی نے سججن کمار کے خلاف دو ایف آئی آر درج کی تھیں۔ یہ ایف آئی آر دہلی کے جنک پوری اور وکاس پوری علاقوں میں 1984 کے فسادات کے دوران ہونے والے تشدد کی شکایات کی بنیاد پر درج کی گئی تھیں۔ پہلی ایف آئی آر جنک پوری کی تشدد سے متعلق تھی، جہاں 1 نومبر 1984 کو سون سنگھ اور ان کے داماد اوتار سنگھ کو قتل کر دیا گیا تھا۔ دوسری ایف آئی آر وکاس پوری کی واقعہ سے متعلق تھی، جس میں 2 نومبر 1984 کو گرچرن سنگھ کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔
اس فیصلے کا اثر کیا ہوگا؟
اگرچہ سججن کمار کو اس کیس میں بری کر دیا گیا ہے، لیکن فی الحال سججن کمار کو جیل میں ہی رہنا پڑے گا۔ کیونکہ سججن کمار کو 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے متعلق 2 الگ کیسوں میں پہلے ہی عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔
1984 سکھ مخالف فسادات:
31 اکتوبر 1984 کو اندرا گاندھی کا قتل ہوا، جسے ان کے سکھ باڈی گارڈز نے انجام دیا تھا۔ اس کے بعد دہلی اور کئی شہروں میں سکھوں کے خلاف بہت بڑی تشدد بھڑک اٹھی۔ یہ تشدد 3-4 دن جاری رہا، لوگوں نے سکھوں کے گھر جلا دیے، دکانیں لوٹیں اور بہت سے سکھوں کو مار ڈالا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دہلی میں تقریباً 2800 اور پورے ملک میں 3000 سے زیادہ سکھ مارے گئے۔ لیکن بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اصل تعداد 8 ہزار سے 17 ہزار تک ہو سکتی ہے۔ کئی رپورٹس کہتی ہیں کہ کچھ لیڈرز اور پولیس نے بھی اس میں مدد کی۔ ان فسادات سے متاثرہ بہت سے خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ یہ واقعہ سکھ برادری کے لیے بہت تکلیف دہ ہے اور بھارت کی تاریخ کا ایک سیاہ باب سمجھا جاتا ہے۔