Saturday, January 31, 2026 | 12, 1447 شعبان
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • بریسٹ کینسر(چھاتی کا کینسر): بیداری ہی سب سے بڑا علاج

بریسٹ کینسر(چھاتی کا کینسر): بیداری ہی سب سے بڑا علاج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jan 30, 2026 IST

بریسٹ کینسر(چھاتی کا کینسر): بیداری ہی سب سے بڑا علاج
منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام “ہیلتھ اور ہم” میں بریسٹ کینسر(چھاتی کا کینسر) جیسے نہایت اہم اور نازک موضوع پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔اپولو ہاسپٹل، جوبلی ہلز، حیدرآباد کے سینئر کنسلٹنٹ ہیڈ سرجیکل آنکولوجسٹ ڈاکٹر اجیش راج سکسینہ اس پروگروام میں شرکت کی۔ اوراہم جانکاری دی۔ اس پروگرام کا مقصد عوام کو صحت سے متعلق درست اور آسان معلومات فراہم کرنا ہے تاکہ بیماریوں سے بچاؤ اور بروقت علاج ممکن ہو سکے۔ آج کے دور میں بیداری ہی سب سے مؤثر ہتھیار ہے،۔ خاص طور پر برسٹ کینسر جیسی بیماری کے خلاف کی جانکاری ضروری ہے۔

بریسٹ کینسر (چھاتی کا کینسر) کینسر کیا ہے؟

اپولو ہاسپٹل، جوبلی ہلز، حیدرآباد کے سینئر کنسلٹنٹ ہیڈ سرجیکل آنکولوجسٹ ڈاکٹر اجیش راج سکسینہ کے مطابق، برسٹ کینسر اس وقت ہوتا ہے جب بریسٹ کینسر (چھاتی کا کینسر)کے خلیات بے قابو ہو کر بڑھنے لگتے ہیں اور گلٹی (لَمپ) کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ بیماری زیادہ تر خواتین میں پائی جاتی ہے، لیکن مرد بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں، اگرچہ ان میں شرح کم ہوتی ہے۔

ابتدائی علامات کو نظرانداز نہ کریں

بریسٹ کینسر کی سب سے عام علامت چھاتی میں بغیر درد کی سخت گلٹی ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ نپل سے خون آلود رطوبت، چھاتی کے سائز میں اچانک تبدیلی، جلد پر زخم یا بغل میں گلٹی کا محسوس ہونا بھی خطرے کی نشانیاں ہیں۔ ڈاکٹر کے مطابق اکثر خواتین درد نہ ہونے کی وجہ سے گلٹی کو نظرانداز کر دیتی ہیں، جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

بریسٹ کینسر کے مراحل 

بریسٹ کینسر کو عام طور پر چار مراحل میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

  • اسٹیج زیرو یا پری کینسر: ابتدائی حالت، مکمل علاج ممکن
  • اسٹیج ون: چھوٹی گلٹی،95 فیصد تک شفا ممکن
  • اسٹیج ٹو اور تھری: گلٹی کا پھیلاؤ،علاج پیچیدہ
  • اسٹیج فور: جسم کے دیگرحصوں میں پھیلاؤ،مکمل علاج مشکل
جلد تشخیص ہونے پر نہ صرف علاج آسان ہوتا ہے بلکہ چھاتی کو محفوظ رکھنا بھی ممکن ہوتا ہے۔

اسکریننگ اور ٹیسٹ کیوں ضروری ہیں؟

ڈاکٹر اجیش کے مطابق ہرمشتبہ کیس میں ٹرپل اسیسمنٹ ضروری ہے،جس میں کلینیکل معائنہ، میموگرام یا الٹراساؤنڈ اور بایوپسی شامل ہیں۔ 40 سال سے زائد عمر کی خواتین کے لیے باقاعدہ میموگرام نہایت اہم ہے، کیونکہ اکثر کینسر ابتدائی مرحلے میں صرف اسی ٹیسٹ سے پکڑے جاتے ہیں۔

غلط فہمیاں اور حقیقت

یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ بروسٹ کینسر کا مطلب زندگی کا خاتمہ یا لازمی طور پر پوری چھاتی کا نکل جانا ہے۔ جدید طب میں سرجری، ہارمون تھراپی، ریڈی ایشن اور ٹارگٹڈ تھراپی جیسے مؤثر علاج دستیاب ہیں۔ کئی کیسز میں صرف گلٹی نکال کر بھی کامیاب علاج ممکن ہے۔

بریسٹ کینسرخوفزدہ نہ ہوں 

بریسٹ کینسر سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اس کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے۔ بروقت ڈاکٹر سے رجوع، باقاعدہ اسکریننگ اور خود معائنہ زندگی بچا سکتا ہے۔ جیسا کہ ماہرین کہتے ہیں۔ اس گفتگو پر مشتمل  مکمل  ویڈیو  یہاں دیکھیں۔