اتر پردیش کے ضلع بہرائچ میں ایک عدالت نے نیپال کے راستے غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہونے کے الزام میں دو برطانوی شہریوں کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے سزا کے اعلان کے فوراً بعد انہیں اس شرط پر ضمانت دے دی کہ وہ اپیل کی مدت کے دوران ملک سے باہر نہیں جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق دونوں شہریوں کو نومبر 2025 میں نیپال کے ایک میڈیکل کالج میں سماعت سے محروم بچوں کے لیے منعقدہ خیراتی پروگرام میں شرکت کے لیے برطانیہ سے نیپال جانا پڑا۔ ان کے پاس نیپال میں قیام کے لیے درست ویزا موجود تھا، لیکن ہندوستان میں داخلے کے لیے ضروری دستاویزات موجود نہیں تھیں۔
اتر پردیش پولیس کے اہلکاروں نے انہیں ہندوستان-نیپال سرحد پر مشترکہ چیکنگ مہم کے دوران روکا، جب وہ ملک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی سرحدی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنے کے مقصد سے کی گئی تھی۔ دونوں شہریوں کو ملک میں داخلے کے لیے درست دستاویزات کے بغیر پایا گیا، جس پر انہیں امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔
عدالت نے مقدمے کی سماعت کے بعد انہیں چھ ماہ کی قید کی سزا سنائی، لیکن ساتھ ہی ضمانت کی شرط رکھی کہ وہ اپیل کی مدت کے دوران ہندوستان سے باہر نہیں جائیں گے۔ وکیلوں کا کہنا ہے کہ یہ ضمانت اپیل کی کارروائی کے دوران قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے دی گئی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق، اس کیس سے واضح ہوتا ہے کہ سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کے معاملات میں سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انسانی اور خیراتی سرگرمیوں میں شامل غیر ملکی شہریوں کے لیے درست ویزا اور داخلے کی دستاویزات ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے تنازعات سے بچا جا سکے۔
ضلع پولیس حکام نے بھی کہا ہے کہ سرحدی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے اور غیر قانونی داخلے کی کوشش کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے بلکہ ملک میں غیر قانونی نقل و حرکت کو بھی روکنا ہے۔
یہ کیس اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ غیر ملکی شہریوں کے لیے سرحدی قوانین اور دستاویزات کی مکمل پابندی لازمی ہے، چاہے وہ کسی خیراتی یا سماجی پروگرام میں شرکت کے لیے ہی کیوں نہ آئیں۔