مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان دو ہفتوں کے عارضی سیزفائر پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اس پیش رفت کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے کی، جس میں انہوں نے عندیہ دیا کہ امریکہ فی الحال ایران کے خلاف عسکری کارروائیاں روکنے پر آمادہ ہے۔
ایران نے بھی اس سیزفائر کو قبول کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو آئندہ دو ہفتوں کے لیے کھولا جائے گا، تاہم اس کی نگرانی ایرانی فوج کے ہاتھ میں ہوگی اور گزرنے والے جہازوں پر مخصوص پابندیاں لاگو ہوں گی۔
پاکستان اس معاملے میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان باضابطہ مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہوں گے، جہاں دونوں فریقین تنازع کے حل کے لیے بات چیت کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں ایران کی جانب سے پیش کی گئی دس اہم شرائط مرکزی حیثیت رکھیں گی۔
ایران کی اہم شرائط
ایران نے مذاکرات کے لیے جو شرائط پیش کی ہیں، ان میں سرفہرست یہ مطالبہ شامل ہے کہ مستقبل میں ایران پر کسی بھی قسم کے حملے کی ضمانت دی جائے۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے، یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے، اور تمام بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
مزید برآں، ایران نے یہ شرط بھی رکھی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو 2 ملین ڈالر فیس ادا کرنی ہوگی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور آئی اے ای اے کی ایران مخالف قراردادوں کو ختم کرنے، جنگی نقصانات کے ازالے، اور امریکی افواج کے انخلا کا مطالبہ بھی ان شرائط میں شامل ہے۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ صرف عارضی سیزفائر نہیں بلکہ مستقل امن چاہتا ہے، جس میں لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر سیزفائر کی خلاف ورزی ہوئی تو ایران بھرپور ردعمل دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دو ہفتے فیصلہ کن ہیں اور ان میں ہونے والے مذاکرات خطے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کی کئی شرائط پر ابتدائی طور پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی فیصلہ آئندہ مذاکرات کے بعد کیا جائے گا۔ بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ابھی تمام شرائط کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات نہایت اہمیت کے حامل ہوں گے، جہاں یہ طے ہوگا کہ آیا یہ عارضی سیزفائر مستقل امن میں تبدیل ہو سکتا ہے یا نہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اب 10 اپریل کی اس ملاقات پر مرکوز ہیں، جس سے خطے میں استحکام کی نئی راہیں کھلنے کی امید کی جا رہی ہے۔