وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں 12 سالہ بچی کے اغوا، زیادتی اور قتل کے المناک واقعے کے بعد پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔اس سنگین معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ سمیت نے دیگر نے کی واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے قصورواروں کو عبرت ناک سزا دینے کی مانگ کی ہے۔
ملزم 24 گھنٹے کےاندر گرفتار
بڈگام میں شدید احتجاج اور عوامی غم و غصے کے درمیان، پولیس نے بارہ سالہ کمسن لڑکی کے اغوا، آبرو ریزی اور قتل کیس کے مرکزی ملزم مدثر احمد میر کو چوبیس گھنٹوں کے اندر گرفتار کر لیا ہے۔
ایس آئی ٹی کےچھاپے
ایس ایس پی بڈگام کے کے ہری پرساد کی قیادت میں قائم کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) دیگر مفرور ملزمان کی تلاش میں چھاپے مار رہی ہے۔ یاد رہے کہ تئیس مئی کو لاپتہ ہونے والی معصوم بچی کی لاش گالوان پورہ کے کھیتوں سے برآمد ہوئی تھی، جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ وہ اس لرزہ خیز اور گھناؤنے جرم میں ملوث تمام درندوں کو عبرتناک اور سخت ترین سزا دلوانا یقینی بنائیں گے۔
"حیران کن اور انتہائی تکلیف دہ" واقعہ
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ضلع بڈگام میں لڑکی کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ کو "حیران کن اور انتہائی تکلیف دہ" قرار دیا ہے۔سانحہ پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے اس گھناؤنے فعل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی اور سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔وزیر اعلیٰ نے غمزدہ خاندان سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ "وہ جنت میں جگہ پائے"۔
ہمارے چھوٹے بچے محفوط نہیں
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ واقعہ بڑے پیمانے پر معاشرے کے لیے ایک سنجیدہ خود شناسی کا لمحہ بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ "جب کہ مناسب ایجنسیاں اس کے قتل کے حالات کے بارے میں پوچھ تاچھ کرتی ہیں، یہ بھی مناسب ہے کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ جب ہمارے چھوٹے بچے محفوظ نہیں ہیں تو ہم بحیثیت معاشرہ کس طرف جا رہے ہیں۔"انہوں نے مزید کہا، "میں اس وحشیانہ حملے کی بغیر کسی ریزرویشن یا شرط کے مذمت کرتا ہوں اور اپنی ہمدردیاں اس کے اہل خانہ سے بھیجتا ہوں۔"
قصورواروں کو قانون کے مطابق مثالی سزا دی ہو
انصاف کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ تحقیقاتی ایجنسیوں کو تمام ضروری تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ قصورواروں کو قانون کے مطابق مثالی سزا دی جائے۔
رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی نے کی مذمت
بڈگام کے گلوان پورہ علاقے میں ایک افسوسناک واقعے میں ایک کمسن بچی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی اور قتل پر مقامی سطح پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ملزم کے خلاف فوری اور سخت کاروائی اور قانون کے مطابق سخت سزا کا مطالبہ کیا ہے۔
ایم ایل اے وحید الرحمن پرہ کا اظہار افسوس
پی ڈی پی ایم ایل اے وحید الرحمن پرہ ۔نے بڈگام کے گلوان پورہ علاقے کا دورہ کیا، جہاں 12 سالہ بچی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے بعد قتل کا واقعہ پیش آیا تھا۔ انہوں نے متاثرہ خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا اور واقعے کو افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سنگین جرم کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ملوث افراد کو سخت ترین سزا دی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔
ایسے واقعات معاشے کیلئے تشویش کا باعث
پی ڈی پی لیڈر التجا مفتی نے بڈگام میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گلوان پورہ میں نابالغ لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعے کو افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات پورے معاشرے کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ ملوث افراد کو جلد گرفتار کر سخت سزا کا مطالبہ کیا ہے۔